Category: Urdu Stories in Urdu

This is the home of Urdu short stories selected carefully from different authors, from Pakistan and India. Urdu short storeis or Urdu Khaniyan is a similar terms in both hindi and urdu as both are spoken in almost the same manner. idesisms is online since 2008 and we have the best Urdu Kahawat collection on the internet. Our content includes, but not limited to; Urdu Kahawatain | Urdu quotes | Urdu Sayings | Urdu short stories | Urdu Kahani | Urdu Kahaniyan | Urdu Stories in Urdu | Hindi Love Poetry | Hindi Shayri. We have tried to present the best. You can also publish your poetry on www.idesisms.com by sending your content to info@idesisms.com.

پچھتاوا

Share

پچھتاوا

جوانی چڑھ گئی تو میں گھر دیر سے آنے لگا، رات دیر تک گھر سے باہر رہنا اور سارا سارا دن سوئے رہنا معمول بن گیا ، امی نے بہت منع کیا لیکن میں باز نہ آیا۔ شروع شروع میں وہ میری وجہ سے دیر تک جاگتی رہتیں بعد میں سونے سے پہلے فریج کے اوپر ایک چٹ چپکا کر سو جاتیں، جس پر کھانے کی نوعیت اور جگہ کے بارے میں لکھا ہوتا تھا ۔ آہستہ آہستہ چٹ کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور “گندے کپڑے کہاں رکھنے ہیں اور صاف کپڑے کہاں پر رکھے ہیں” جیسے جملے بھی لکھے ملنے لگے، نیز یہ بھی کہ آج فلاں تاریخ ہے اور کل یہ کرنا ہے پرسوں فلاں جگہ جانا ہے وغیرہ وغیرہ ۔

یہ سلسلہ کافی عرصہ تک جاری رہا ۔ ۔ ۔ ایک دن میں رات دیر سے آیا، بہت تھکا ہوا تھا۔ حسب معمول فریج پر چٹ لگی ہوئی دیکھی لیکن بغیر پڑھے میں سیدھا بیڈ پر گیا اور سو گیا۔ صبح سویرے والد صاحب کے چیخ چیخ کر پکارنے سے آنکھ کھلی۔ ابو کی آنکھوں میں آنسو تھے انہوں یہ اندوہناک خبر سنائی کہ بیٹا تمہاری ماں اب اس دنیا میں نہیں رہیں ۔ میرے تو جیسے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی، غم کا ایک پہاڑ جیسے میرے اوپر آ گرا۔ ۔ ۔ ۔ ابھی تو میں نے امی کے لئے یہ کرنا تھا ، وہ کرنا تھا۔ ۔ ۔ ابھی تو میں سدھرنے والا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ میں تو امی سے کہنے والا تھا کہ اب میں رات دیر سے نہیں آیا کروں گا ۔ ۔ ۔

تدفین وغیرہ سے فارغ ہوکر رات کو جب میں نڈھال ہوکر بستر پر دراز ہوا تو اچانک مجھے امی کی رات والی چٹ یاد آ گئی، فوراً گیا اور اتار کر لے آیا، اس پر لکھا تھا:- “بیٹا آج میری طبعیت کچھ ٹھیک نہیں ہے، میں سونے جا رہی ہوں ، تم جب آؤ تو مجھے جگا لینا، مجھے ذرا ہسپتال تک لے جانا ۔ ۔ ۔

Share

دنیا کا امیر ترین انسان

Share

دنیا کا امیر ترین انسان

مائیکروسافٹ کے مالک بل گیٹس سے ایک انٹرویو میں سوال پوچھا گیا کہ کیا آپ سے زیادہ دنیا میں کوئی امیر ہے ؟ ۔۔۔ بل گیٹس نے جواب دیا “ہاں”

ایک بار جب میں مشہور تھا نہ امیر تھا ایک ائیرپورٹ پر اترا۔ وہاں ایک اخبار فروش اخبار بیچ رہا تھا۔ میں نے بٹوہ دیکھا تو اس میں چینج نہیں تھا۔ میں نے اسے اخبار لوٹاتے ہوئے کہا کہ یہ میں نہیں لے سکتا میرے پاس چینج نہیں۔ اس اخبار فروش نے مجھے اخبار دیا اور بولا کہ کوئی بات نہیں تم یہ رکھ لو۔

کچھ عرصے بعد اتفاق سے میرا دوبارہ اسی ائیرپورٹ جانا ہوا۔ اس دن بھی میرے پاس چینج نہیں تھا۔ وہی اخبار فروش جب اخبار دینے لگا تو میں نے اسے کہا کہ آج تو میں ہرگز اخبار نہیں لوں گا پہلے بھی تم کو پیسے نہ دے سکا اور آج بھی میرے پاس چینج نہیں ہے۔ اخبار فروش نے مجھے اخبار تھماتے ہوئے کہا کہ مجھے نقصان نہیں ہو رہا یہ اخبار میں اپنے منافع سے دے رہا ہوں ۔۔۔

19 سال بعد جب میں مشہور بھی ہو گیا اور امیر بھی ہو گیا تو ایک دن مجھے اس اخبار فروش کی یاد آئی۔ میں اسے ڈھونڈنے واپس اسی ائیرپورٹ گیا اور کئی دنوں کی تلاش و بسیار کے بعد بلآخر میں نے اسے ڈھونڈ لیا۔ جب وہ ملا تو میں نے اسے کہا کہ کیا تم نے مجھے پہچانا ؟ وہ بولا “ہاں تم بل گیٹس ہو” ۔ میں نے کہا تم کو یاد ہے ایک بار میرے پاس چینج نہیں تھا تو تم نے مجھے اخبار دیا تھا ؟۔ وہ بولا “ہاں مجھے یاد ہے، ایسا دو بار ہوا تھا” ۔۔ میں نے اسے کہا کہ اچھا بتاو تم کو کیا چاہیئے۔ تمہاری کیا خواہش ہے ؟ میں تمہاری مدد کا حساب چکانا چاہتا ہوں۔۔۔

اس نے جواب دیا ” تم کیسے میری مدد کا حساب چکا سکتے ہو ؟ میں نے تمہاری مدد تب کی تھی جب میں ایک غریب اخبار فروش تھا اور تم میری مدد کرنے تب آئے ہو جب تم دنیا کے امیر ترین شخص ہو” ۔۔۔ اس کا یہ جواب سن کر مجھے لگا کہ یہ دنیا کا امیر ترین انسان ہے کہ اس نے میری مدد اپنی غربت میں کی اور مدد کرنے کو امیر ہونے کا انتظار نہیں کیا۔ میری نظر میں وہ اخبار فروش دنیا کا امیر ترین انسان ہے۔

مدد کرنے کو امیر ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ کسی کی حاجت اگر تھوڑی سی کوشش سے پوری کر دی جائے تو یہی امیری ہے اور یہی انسانیت ہے۔

Share

شارٹ فلم

Share

شارٹ فلم

امریکہ کے ایک سینما میں کمرشل فلم سے پہلے ایک شارٹ فلم چلائی گئی۔جو احباب شارٹ فلم سے ناآشنا ہیں‘ ان کے لیے عرض ہے کہ یہ مختصر دورانیے کی فلم ہوتی ہے‘ جس میں ایک بھرپور میسج دیا جاتاہے۔ انٹرنیٹ پر بڑی تعداد میں یہ شارٹ فلمز موجود ہیں ‘جن کا دورانیہ عموماً دس سے پندرہ منٹ ہوتاہے۔پوری دنیا میں ان کے خصوصی میلے منعقد ہوتے ہیں‘ جس میں انعامات بھی دیے جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی ایسی فلمیں بہت زیادہ بنتی ہیں‘ لیکن صرف انٹرنیٹ پر ہی ملتی ہیں یورپ ‘ امریکہ اور انڈیا میں‘ البتہ اس پر بہت زیادہ کام ہورہا ہے ۔ انڈیا کی شارٹ فلمز میں تو اُ ن کی فلم کے چوٹی کے اداکار بھی دکھائی دیتے ہیں۔شارٹ فلموں کو آپ افسانوی ادب میں شمار کرسکتے ہیں۔ یہ کسی ایک لمحے یا واقعے پر مشتمل ہوتی ہیں ‘جو ایک دفعہ ذہن کی سکرین سے چپک جائے ‘تو پھر آسانی سے نہیں اُترتا۔مختصر ترین وقت میں بہترین میسج کے ساتھ یہ شارٹ فلمز دنیا بھر میں مقبول ہوتی جارہی ہیں۔

ہاں تو شارٹ فلم شروع ہوئی۔یہ واقعہ میرے دوست نے مجھے بتایا ہے‘ جو حال ہی میں امریکہ ہوکر آیا ہے۔اُس نے بتایا کہ سکرین پر ایک منظر تھا ‘جس میں چھت کا پنکھا دکھایا گیا تھا‘ یہ پنکھا پرانے ماڈل کا تھا اور مسلسل چل رہا تھا۔ اس پنکھے کے علاوہ فریم میں اور کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ سینمادیکھنے والے بڑے تجسس سے یہ سین دیکھ رہے تھے‘ اُنہیں یقین تھا کہ ابھی کچھ دیر میں منظر بدلے گا اور کچھ ایسا دیکھنے کو ملے گا‘ جو سیدھا اُن کے دل پر اثر کرے گا‘ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا…دو منٹ گزر گئے اور صرف پنکھا ہی چلتا دکھائی دیتا رہا۔ سینما ہال میں موجود کئی حاضرین نے انگڑائیاں لینا شروع کر دیں۔یوں لگ رہا تھا جیسے سب کو یقین ہوچکا ہے کہ شارٹ فلم میں اُ ن کے دیکھنے لائق کچھ نہیں۔شائقین توقع کررہے تھے کہ شاید آگے چل کر کچھ واقعی دیکھنے لائق نظر آجائے…!!!

پانچ منٹ بعد بھی سین نہیں بدلا۔ بیزار طبع لوگوں نے پاپ کارن کے پیکٹ کھول لیے۔ فلم کے آغاز میں جو سکوت طاری تھا‘ وہ آہستہ آہستہ ختم ہوتا جارہا تھا۔لوگوں کی توجہ بھی سکرین پر مرکوز نہیں رہی تھی‘جن کے پاس پاپ کارن نہیں تھے انہوں نے موبائل نکال لیے تھے اور وقت گذاری کے لیے سوشل میڈیا کھول لیا تھا‘تاہم سب لوگ وقفے وقفے سے ایک نظر سینما سکرین پر بھی ڈال لیتے تھے‘ لیکن وہاں وہی منظر تھا…چھت پر چلتا ہوا پرانے ماڈل کا پنکھا…!!!

چھٹا منٹ شروع ہوا تو دبی دبی سرگوشیاں شروع ہوگئیں کہ کتنی بورنگ ہے ‘یہ شارٹ فلم۔ ایک صاحب نے تبصرہ کیا کہ یقینا یہ کوئی آرٹ کی نئی قسم ہے‘ کیونکہ اکثر بور ترین چیز کو آرٹ کا نام دے دیا جاتاہے۔ ایک اور آواز آئی ”ہوسکتا ہے فلم کے آخر میں یہ بتایا جائے کہ پنکھا بھی ہمارے سانس کی طرح ہے ‘جو چلتا جارہا ہے‘ لیکن جب کوئی بٹن دباتا ہے‘ تو یہ بند ہوجاتاہے…اور اگر واقعی یہی اختتام ہوا تو میں لعنت بھیجوں گا‘ ایسی بورنگ شارٹ فلم بنانے پر۔‘‘ ایک رائے آئی”یہ فلم اس لیے دکھائی جارہی ہے ‘تاکہ جب کمرشل فلم شروع ہو تو وہ ہمیں زیادہ اچھی لگے…‘‘ یہ بات سن کر کئی لوگ قہقہے لگانے لگے ۔ ایک موٹے امریکی نے تو باقاعدہ اپنی سیٹ سے اُٹھ کر کہہ بھی دیا کہ یہ شارٹ فلم نہیں‘ بلکہ ہمارے صبر کا امتحان ہے۔پچھلی سیٹوں پر بیٹھی ایک خاتون کی بھی آواز آئی کہ ”پنکھا بند کردیا جائے‘ بلاوجہ سردی محسوس ہورہی ہے۔‘‘ اُسی کی ایک ساتھی کی آواز گونجی ”ہاں! اور ساتھ ہی یہ شارٹ فلم بنانے کو بھی بند کر دیا جائے‘‘۔

ہوتے ہوتے دسواں منٹ سٹارٹ ہوگیا۔ شارٹ فلم کے آغاز میں ہی بتایا گیا تھا کہ اس کا دورانیہ 10 منٹ ہے‘ لیکن اب تو دسواں منٹ شروع ہوگیا تھا اور سکرین پر صرف چھت والا پنکھا چلتا دکھائی دے رہا تھا۔آخر محض ایک چلتے ہوئے پنکھے کو فلم دیکھنے والے کتنی دیر تک برداشت کر سکتے ہیں۔ہال میں اب لوگوں کے ہنسنے کی آوازیں بھی آرہی تھیں۔کئی لوگ طنزیہ جملے بھی کسنا شروع ہوگئے

اتنے میں اچانک شارٹ فلم کا منظر بدلا اور کیمرہ دھیرے سے گھومتا ہوا پنکھے کے بالکل الٹی سمت میں حرکت کرگیا۔ اب سکرین پر ایک بیڈ نظر آرہا تھا‘ جس پرایک شخص ساکت لیٹا ہوا چھت کے پنکھے کو خالی نظروں سے دیکھے جارہا تھا۔ منظر بدلتے ہی سینما ہال میں موجود لوگ بھی چونک گئے۔ سرگوشیاں بند ہوگئیں اور نظریں سکرین پر جم گئیں۔ دس منٹ ختم ہونے میں پندرہ سیکنڈ باقی تھے…تبھی سینما ہال میں ایک آواز گونجی…”یہ شخص ہلنے جلنے سے قاصر ہے ‘جس منظر کو آپ دس منٹ نہیں دیکھ سکے‘ اُسے یہ شخص دس سال سے مسلسل اسی طرح دیکھ رہا ہے‘‘۔…ایک لمحے کے لیے ہر طرف خاموشی چھا گئی …اور پھرپورا ہال تالیوں کے شور سے گونج اٹھا۔

ایسے لوگ ہمارے ہاں بھی موجود ہیں‘ جو آزادی کے اس مفہوم سے ناآشنا ہیں۔کوئی آزادی سے اُٹھ نہیں سکتا‘ کسی کے پائوں بیماری نے جکڑرکھے ہیں۔کوئی آوازیں سننے سے قاصر ہے اور کسی کے نصیب میں برستی بارش دیکھنا نہیں۔ کوئی آزادی سے ہر چیز کھانے کا رسک نہیں لے سکتا۔کسی کی سانس آکسیجن سلنڈر کی محتاج بن کر رہ گئی ہے‘کوئی ہاتھ بڑھا کر پانی کا گلاس خود نہیں پی سکتا اور کسی کے لیے خواب آور گولیوں کے بغیر سونا ممکن نہیں۔ایسے لوگ تقریباً ہر گھر میں موجود ہیں۔ ماں کی شکل میں‘ باپ کی شکل میں یا کسی قریبی عزیز کی شکل میں۔یہ آزادی سے جشن ِآزادی بھی نہیں منا سکتے۔انہیں روزانہ دس منٹ ایسے ضرو دیجئے‘ جس میں آپ کی برداشت جواب نہ دے…!!!

گل نوخیز اختر

Share

ایمان بااللہ – اللہ پاک کیوں نظر نہی آتے ؟

Share

ایمان بااللہ ۔ اللہ پاک نظر کیوں نہیں آتے؟

جو شخص بھی کائنات کے تمام اجزاء کے درمیان موجود گہرے ربط و ضبط کو دیکھے گا وہ پُکار اُٹھے گا کہ کوئی ذات ہے جس نے اس کائنات کا بنایا ہے۔ یہ کائنات نہ تو اتفاقیہ طور پر وجود میں آئی ہے اور نہ خود اپنی خالق ہے۔ ایک شخص نے کسی درویش سے پوچھا۔” اگر اللہ ہے تو نظر کیوں نہیں آتا؟ جنات کو اللہ نے آگ سے بنایا ہے۔ ان کو جہنم کی آگ میں جھونکنے سے کیا تکلیف ہوگی؟ میرے گناہوں کی سزا مجھے کیوں ملے گی جبکہ اللہ کے حکم کے بغیر ایک پتا بھی نہیں ہلتا؟”
یہ سن کر درویش نے غصہ میں آ کر ایک ڈھیلا اٹھا کر اسے مارا۔ اس شخص کا سر پھٹ گیا۔ وہ سیدھا قاضی کی عدالت میں پہنچا اور اپنی درد بھری کہانی سنائی اور داد رسی چاہی۔ قاضی نے درویش کو بلا کر باز پرس کی۔ درویش نے جواب دیا۔
“یہ شخص ٹھیک کہتا ہے۔ اس بد عقیدہ شخص سے مجھے کچھ پوچھنے کی اجازت دی جائے۔”
قاضی نے اجازت دے دی۔ درویش نے اس شخص سے پوچھا۔
“تو کہتا ہے کہ تیرا سر زخمی ہونے سے تجھے تکلیف ہو رہی ہے لیکن مجھے تکلیف نظر نہیں آتی۔ خدا نے تجھے مٹی سے بنایا ہے تو پھر مٹی کے ڈھیلے سے تیرا سر کیوں پھٹ گیا۔ بتا، میں تیری نظر وں میں تجھے ڈھیلہ مارنے کا مجرم کیسے ٹھہرا جبکہ خدا کے حکم کے بغیر کوئی پتا بھی نہیں ہلتا۔”
وہ شخص لاجواب ہو گیا۔ ایک لفظ بھی اس کی زبان سے ادا نہ ہو سکا۔ قاضی نے درویش کو بری کر دیا اور اس شخص کو بری لعن طعن کی۔
حاصل کلام
اللہ پر بے یقینی اور نکتہ چینی کرنے والا خود ذلیل و خوار ہوتا ہے۔

Share

Kaam Kaisa Chal Raha Hai – Funny Urdu Joke

Share

ایک آدمی پبلک ٹوائلٹ میں بیٹھا اپنی حاجت پوری کر رھا تھا -اسے اچانک ساتھ والے ٹوائلٹ سے آواز سنائی دی-
“کیا حال هیں”؟؟
آدمی گھبرا کر -“”ٹھیک هوں”
پھر آواز آئی-
“”کیا کر رھے هو”؟؟؟
آدمی-“ضروری کام سے بیٹھا هوں”
پھر آواز آئی
“کام کیسا چل رھا هے”؟؟
آدمی اور گھبرا کر بولا”رک رک کے چل رھا هے”-
پھر آواز آئی-
“یار میں تمہیں بعد میں کال کرتا هوں کوئی الو_کا_پٹھا ساتھ والے ٹوائلٹ سے میری ھر بات کا جواب دے رها هے

Share

Muskuraiyae – An Intelligent Professor

Share

پروفیسر صاحب انتہائی اہم موضوع پر لیکچر دے رہے تھے، جیسے ہی آپ نے تختہ سیاہ پر کچھ لکھنے کیلئے رخ پلٹا کسی طالب علم بے سیٹی ماری۔
پروفیسر صاحب نے مڑ کر پوچھا کس نے سیٹی ماری ہے تو کوئی بھی جواب دینے پر آمادہ نا ہوا۔ آپ نے قلم بند کر کے جیب میں رکھا اور رجسٹر اٹھا کر چلتے ہوئے کہا؛ میرا لیکچر اپنے اختتام کو پہنچا اور بس آج کیلئے اتنا ہی کافی ہے۔
پھر انہوں نے تھوڑا سا توقف کیا، رجسٹر واپس رکھتے ہوئے کہا، چلو میں آپ کو ایک قصہ سناتا ہوں تاکہ پیریڈ کا وقت بھی پورا ہوجائے۔
کہنے لگے: رات میں نے سونے کی بڑی کوشش کی مگر نیند کوسوں دور تھی۔ سوچا جا کر کار میں پٹرول ڈلوا آتا ہوں تاکہ اس وقت پیدا ہوئی کچھ یکسانیت ختم ہو، سونے کا موڈ بنے اور میں صبح سویرے پیٹرول ڈلوانے کی اس زحمت سے بھی بچ جاؤں۔
پھر میں نے پیٹرول ڈلوا کر اُسی علاقے میں ہی وقت گزاری کیلئے ادھر اُدھر ڈرائیو شروع کردی۔
کافی مٹرگشت کے بعد گھر واپسی کیلئے کار موڑی تو میری نظر سڑک کے کنارے کھڑی ایک لڑکی پر پڑی، نوجوان اور خوبصورت تو تھی مگر ساتھ میں بنی سنوری ہوئی بھی، لگ رہا تھا کسی پارٹی سے واپس آ رہی ہے۔
میں نے کار ساتھ جا کر روکی اور پوچھا، کیا میں آپ کو آپ کے گھر چھوڑ دوں؟
کہنے لگی: اگر آپ ایسا کر دیں تو بہت مہربانی ہوگی، مجھے رات کے اس پہر سواری نہیں مل پا رہی۔
لڑکی اگلی سیٹ پر میرے ساتھ ہی بیٹھ گئی، گفتگو انتہائی مہذب اور سلجھی ہوئی کرتی تھی، ہر موضوع پر مکمل عبور اور ملکہ حاصل تھا، گویا علم اور ثقافت کا شاندار امتزاج تھی۔
میں جب اس کے بتائے ہوئے پتے ہر اُس کے گھر پہنچا تو اُس نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اُس نے مجھ جیسا باشعور اور نفیس انسان نہیں دیکھا، اور اُس کے دل میں میرے لیئے پیار پیدا ہو گیا ہے۔
میں نے بھی اُسے صاف صاف بتاتے ہوئے کہا، سچ تو یہ ہے کہ آپ بھی ایک شاہکار خاتوں ہیں، مجھے بھی آپ سے انتہائی پیار ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی میں نے اُسے بتایا کہ میں یونیوسٹی میں پروفیسر ہوں، پی ایچ ڈی ڈاکٹراور معاشرے کا مفید فرد ہوں۔ لڑکی نے میرا ٹیلیفون نمبر مانگا جو میں نے اُسے بلا چوں و چرا دیدیا۔
میری یونیورسٹی کا سُن کر اُس نے خوش ہوتے ہوئے کہا؛ میری آپ سے ایک گزارش ہے۔
میں نے کہا؛ گزارش نہیں، حکم کرو۔
کہنے لگی؛ میرا ایک بھائی آپ کی یونیوسٹی میں پڑھتا ہے، آپ سے گزارش ہے کہ اُس کا خیال رکھا کیجیئے۔
میں نے کہا؛ یہ تو کوئی بڑی بات نہیں ہے، آپ اس کا نام بتا دیں۔
کہنے لگی؛ میں اُس کا نام نہیں بتاتی لیکن آپ کو ایک نشانی بتاتی ہوں، آپ اُسے فوراً ہی پہچان جائیں گے۔
میں نے کہا؛ کیا ہے وہ خاص نشانی، جس سے میں اُسے پہچان لوں گا۔
کہنے لگی؛ وہ سیٹیاں مارنا بہت پسند کرتا ہے۔
پروفیسر صاحب کا اتنا کہنا تھا کہ کلاس کے ہر طالب علم کی نظر غیر ارادی طور پر اُس لڑکے کی طرف اُٹھ گئی جس نے سیٹی ماری تھی۔
پروفیسر صاحب نے اُس لڑکے کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا، اُٹھ اوئے جانور، تو کیا سمجھتا ہے میں نے یہ پی ایچ ڈی کی ڈگری گھاس چرا کر لی ہے کیا؟

Share

Eid Ka Din Kis Kay Liyae.. Kabhi Sochain

Share

عید کو دو ہی دن رہ گئے تھے.. بوڑھے نے اپنے بیٹے کو فون کیا.. “بیٹا ! میں تمھیں ان خوشی کے دنوں میں تکلیف پہنچانا نہیں چاہتا مگر کیا کروں , کہے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں ہے.. میں اور تمھاری ماں علیحدہ ہورہے ہیں.. بہت ہوچکا.. اب اس سے ذیادہ جھنجھٹیں میں برداشت نہیں کرسکتا..”
“کیا _ ؟؟؟ آپ کیا بول رہے ہیں ابو..” بیٹا چیخ پڑا..
“ہم اب ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہ سکتے..” بوڑھے باپ نے واضح کردیا.. “ہم ایک دوسرے سے بیزار ہوچکے ہیں اور میں اس موضوع پر مزید کوئی گفتگو کرنے سے قاصر ہوں.. تم دوسرے شہر رہنے والی بہن کو بھی فون کرکے اس کی اطلاع دے دو..”
بیٹے نے گھبرا کر اپنی بہن کو فون کیا اور بتایا کہ ہمارے ماں باپ طلاق لے رہے ہیں..
بیٹی نے خبر سنی تو دیوانوں کی طرح چلا اٹھی.. “کیا کہہ رہے ہو بھیا.. ایسا نہیں ہوسکتا.. میں ابھی ابو کو فون کرتی ہوں.. دیکھتی ہوں ایسا کیسے کرسکتے ہیں وہ..”
لڑکی نے اپنے وطن رہنے والے باپ کو فون ملایا اور چیخنے چلانے لگی.. “آپ ایسا نہیں کریں گے.. یہ کوئی عمر ہے طلاق لینے کی.. میں آرہی ہوں.. جب تک میں نہ آجاؤں آپ اس سلسلے میں ایک بھی قدم نہیں اُٹھائیں گے.. میں بھائی کو فون کرکے ساتھ چلنے کو کہتی ہوں.. ہم دونوں کل تک آرہے ہیں کسی بھی صورت میں اور کل تک آپ کچھ نہیں کریں گے.. آپ سن رہے ہیں ناں میری بات..؟؟” اتنا کہہ کر اس نے فون بند کردیا..
بوڑھے نے فون رسیور پر رکھا اور بیوی سے مخاطب ہو کر بولا.. “مسئلہ حل ہوگیا ہے.. پورے تین سال بعد وہ دونوں آرہے ہیں اور عید ہمارے ساتھ ہی کریں گے..”
اللہ نہ کرے کہ کسی کی زندگی ميں ايسا وقت آۓ ليکن يہ کہانی ايک انتہائی حساس موضوع کی طرف اشارہ کرتی ہے..
اس سے پہلے کہ وقت آپ کے ہاتھ سے نکل جاۓ يا خدانخواستہ کوئی اور ايمرجنسی کال آ جاۓ اور آپ ہاتھ ملتے رہ جائيں ، اگر اپ نے بھی پچھلے کچھ سالوں سے اپنے والدين کے ساتھ عيد نہيں منائی ہے تو کوشش کيجيے کہ اس بار عيد اپنے گھر والوں , خاص طور پر اپنے والدين کے ساتھ منائيں..
ابھی عيد آنے ميں کچھ روز باقی ہيں.. خاص طور پر پرديس ميں بسنے والے بھائی بہنوں سے التماس ہے کہ اگر آپ کے حالات اجازت ديتے ہيں اور کوئی رکاوٹ بھی نہيں ہےتو اس بار اپنے والدين کی عيد کی خوشيوں کو دوبالا کرديں…!!!

Share