Funny SMS Text Messages and Jokes Collection

funny sms jokes,funny sms, funny text messages, funny jokes

Urdu Excerpts SMS

Send free best urdu quotes sms on mobiles. New / Latest quotes in urdu, sad urdu quotes,love quotes urdu romantic, funny quotes urdu, beautiful famous urdu, Experience the best Urdu sms messages collection on internet. All urdu sms messages are updated daily and you will get all best urdu sms messages daily

Kaam Kaisa Chal Raha Hai – Funny Urdu Joke

FacebookTwitterGoogle+Share

ایک آدمی پبلک ٹوائلٹ میں بیٹھا اپنی حاجت پوری کر رھا تھا -اسے اچانک ساتھ والے ٹوائلٹ سے آواز سنائی دی-
“کیا حال هیں”؟؟
آدمی گھبرا کر -“”ٹھیک هوں”
پھر آواز آئی-
“”کیا کر رھے هو”؟؟؟
آدمی-“ضروری کام سے بیٹھا هوں”
پھر آواز آئی
“کام کیسا چل رھا هے”؟؟
آدمی اور گھبرا کر بولا”رک رک کے چل رھا هے”-
پھر آواز آئی-
“یار میں تمہیں بعد میں کال کرتا هوں کوئی الو_کا_پٹھا ساتھ والے ٹوائلٹ سے میری ھر بات کا جواب دے رها هے

Kaam Kaisa Chal Raha Hai – Funny Urdu Joke
2.8(56%) 5 votes

Muskuraiyae – An Intelligent Professor

پروفیسر صاحب انتہائی اہم موضوع پر لیکچر دے رہے تھے، جیسے ہی آپ نے تختہ سیاہ پر کچھ لکھنے کیلئے رخ پلٹا کسی طالب علم بے سیٹی ماری۔
پروفیسر صاحب نے مڑ کر پوچھا کس نے سیٹی ماری ہے تو کوئی بھی جواب دینے پر آمادہ نا ہوا۔ آپ نے قلم بند کر کے جیب میں رکھا اور رجسٹر اٹھا کر چلتے ہوئے کہا؛ میرا لیکچر اپنے اختتام کو پہنچا اور بس آج کیلئے اتنا ہی کافی ہے۔
پھر انہوں نے تھوڑا سا توقف کیا، رجسٹر واپس رکھتے ہوئے کہا، چلو میں آپ کو ایک قصہ سناتا ہوں تاکہ پیریڈ کا وقت بھی پورا ہوجائے۔
کہنے لگے: رات میں نے سونے کی بڑی کوشش کی مگر نیند کوسوں دور تھی۔ سوچا جا کر کار میں پٹرول ڈلوا آتا ہوں تاکہ اس وقت پیدا ہوئی کچھ یکسانیت ختم ہو، سونے کا موڈ بنے اور میں صبح سویرے پیٹرول ڈلوانے کی اس زحمت سے بھی بچ جاؤں۔
پھر میں نے پیٹرول ڈلوا کر اُسی علاقے میں ہی وقت گزاری کیلئے ادھر اُدھر ڈرائیو شروع کردی۔
کافی مٹرگشت کے بعد گھر واپسی کیلئے کار موڑی تو میری نظر سڑک کے کنارے کھڑی ایک لڑکی پر پڑی، نوجوان اور خوبصورت تو تھی مگر ساتھ میں بنی سنوری ہوئی بھی، لگ رہا تھا کسی پارٹی سے واپس آ رہی ہے۔
میں نے کار ساتھ جا کر روکی اور پوچھا، کیا میں آپ کو آپ کے گھر چھوڑ دوں؟
کہنے لگی: اگر آپ ایسا کر دیں تو بہت مہربانی ہوگی، مجھے رات کے اس پہر سواری نہیں مل پا رہی۔
لڑکی اگلی سیٹ پر میرے ساتھ ہی بیٹھ گئی، گفتگو انتہائی مہذب اور سلجھی ہوئی کرتی تھی، ہر موضوع پر مکمل عبور اور ملکہ حاصل تھا، گویا علم اور ثقافت کا شاندار امتزاج تھی۔
میں جب اس کے بتائے ہوئے پتے ہر اُس کے گھر پہنچا تو اُس نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اُس نے مجھ جیسا باشعور اور نفیس انسان نہیں دیکھا، اور اُس کے دل میں میرے لیئے پیار پیدا ہو گیا ہے۔
میں نے بھی اُسے صاف صاف بتاتے ہوئے کہا، سچ تو یہ ہے کہ آپ بھی ایک شاہکار خاتوں ہیں، مجھے بھی آپ سے انتہائی پیار ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی میں نے اُسے بتایا کہ میں یونیوسٹی میں پروفیسر ہوں، پی ایچ ڈی ڈاکٹراور معاشرے کا مفید فرد ہوں۔ لڑکی نے میرا ٹیلیفون نمبر مانگا جو میں نے اُسے بلا چوں و چرا دیدیا۔
میری یونیورسٹی کا سُن کر اُس نے خوش ہوتے ہوئے کہا؛ میری آپ سے ایک گزارش ہے۔
میں نے کہا؛ گزارش نہیں، حکم کرو۔
کہنے لگی؛ میرا ایک بھائی آپ کی یونیوسٹی میں پڑھتا ہے، آپ سے گزارش ہے کہ اُس کا خیال رکھا کیجیئے۔
میں نے کہا؛ یہ تو کوئی بڑی بات نہیں ہے، آپ اس کا نام بتا دیں۔
کہنے لگی؛ میں اُس کا نام نہیں بتاتی لیکن آپ کو ایک نشانی بتاتی ہوں، آپ اُسے فوراً ہی پہچان جائیں گے۔
میں نے کہا؛ کیا ہے وہ خاص نشانی، جس سے میں اُسے پہچان لوں گا۔
کہنے لگی؛ وہ سیٹیاں مارنا بہت پسند کرتا ہے۔
پروفیسر صاحب کا اتنا کہنا تھا کہ کلاس کے ہر طالب علم کی نظر غیر ارادی طور پر اُس لڑکے کی طرف اُٹھ گئی جس نے سیٹی ماری تھی۔
پروفیسر صاحب نے اُس لڑکے کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا، اُٹھ اوئے جانور، تو کیا سمجھتا ہے میں نے یہ پی ایچ ڈی کی ڈگری گھاس چرا کر لی ہے کیا؟

Muskuraiyae – An Intelligent Professor
3(60%) 3 votes

Eid Ka Din Kis Kay Liyae.. Kabhi Sochain

عید کو دو ہی دن رہ گئے تھے.. بوڑھے نے اپنے بیٹے کو فون کیا.. “بیٹا ! میں تمھیں ان خوشی کے دنوں میں تکلیف پہنچانا نہیں چاہتا مگر کیا کروں , کہے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں ہے.. میں اور تمھاری ماں علیحدہ ہورہے ہیں.. بہت ہوچکا.. اب اس سے ذیادہ جھنجھٹیں میں برداشت نہیں کرسکتا..”
“کیا _ ؟؟؟ آپ کیا بول رہے ہیں ابو..” بیٹا چیخ پڑا..
“ہم اب ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہ سکتے..” بوڑھے باپ نے واضح کردیا.. “ہم ایک دوسرے سے بیزار ہوچکے ہیں اور میں اس موضوع پر مزید کوئی گفتگو کرنے سے قاصر ہوں.. تم دوسرے شہر رہنے والی بہن کو بھی فون کرکے اس کی اطلاع دے دو..”
بیٹے نے گھبرا کر اپنی بہن کو فون کیا اور بتایا کہ ہمارے ماں باپ طلاق لے رہے ہیں..
بیٹی نے خبر سنی تو دیوانوں کی طرح چلا اٹھی.. “کیا کہہ رہے ہو بھیا.. ایسا نہیں ہوسکتا.. میں ابھی ابو کو فون کرتی ہوں.. دیکھتی ہوں ایسا کیسے کرسکتے ہیں وہ..”
لڑکی نے اپنے وطن رہنے والے باپ کو فون ملایا اور چیخنے چلانے لگی.. “آپ ایسا نہیں کریں گے.. یہ کوئی عمر ہے طلاق لینے کی.. میں آرہی ہوں.. جب تک میں نہ آجاؤں آپ اس سلسلے میں ایک بھی قدم نہیں اُٹھائیں گے.. میں بھائی کو فون کرکے ساتھ چلنے کو کہتی ہوں.. ہم دونوں کل تک آرہے ہیں کسی بھی صورت میں اور کل تک آپ کچھ نہیں کریں گے.. آپ سن رہے ہیں ناں میری بات..؟؟” اتنا کہہ کر اس نے فون بند کردیا..
بوڑھے نے فون رسیور پر رکھا اور بیوی سے مخاطب ہو کر بولا.. “مسئلہ حل ہوگیا ہے.. پورے تین سال بعد وہ دونوں آرہے ہیں اور عید ہمارے ساتھ ہی کریں گے..”
اللہ نہ کرے کہ کسی کی زندگی ميں ايسا وقت آۓ ليکن يہ کہانی ايک انتہائی حساس موضوع کی طرف اشارہ کرتی ہے..
اس سے پہلے کہ وقت آپ کے ہاتھ سے نکل جاۓ يا خدانخواستہ کوئی اور ايمرجنسی کال آ جاۓ اور آپ ہاتھ ملتے رہ جائيں ، اگر اپ نے بھی پچھلے کچھ سالوں سے اپنے والدين کے ساتھ عيد نہيں منائی ہے تو کوشش کيجيے کہ اس بار عيد اپنے گھر والوں , خاص طور پر اپنے والدين کے ساتھ منائيں..
ابھی عيد آنے ميں کچھ روز باقی ہيں.. خاص طور پر پرديس ميں بسنے والے بھائی بہنوں سے التماس ہے کہ اگر آپ کے حالات اجازت ديتے ہيں اور کوئی رکاوٹ بھی نہيں ہےتو اس بار اپنے والدين کی عيد کی خوشيوں کو دوبالا کرديں…!!!

Eid Ka Din Kis Kay Liyae.. Kabhi Sochain
4.17(83.33%) 6 votes

Islam main Imandari ka Tassawar aur Ghair Muslim

سالوں پہلے کی بات ہے جب ایک امام مسجد صاحب روزگار کیلئے برطانیہ کے شہر لندن پُہنچے تو روازانہ گھر سے مسجد جانے کیلئے بس پر سوار ہونا اُنکا معمول بن گیا۔
لندن پہنچنے کے ہفتوں بعد، لگے بندھے وقت اور ایک ہی روٹ پر بسوں میں سفر کرتے ہوئے کئی بار ایسا ہوا کہ بس بھی وہی ہوتی تھی اور بس کا ڈرائیور بھی وہی ہوتا تھا۔
ایک مرتبہ یہ امام صاحب بس پر سوار ہوئے، ڈرائیور کو کرایہ دیا اور باقی کے پیسے لیکر ایک نشست پر جا کر بیٹھ گئے۔ ڈرائیور کے دیئے ہوئے باقی کے پیسے جیب میں ڈالنے سے قبل دیکھے تو پتہ چلا کہ بیس پنس زیادہ آگئے ہیں۔
امام صاحب سوچ میں پڑ گئے، پھر اپنے آپ سے کہا کہ یہ بیس پنس وہ اترتے ہوئے ڈرائیور کو واپس کر دیں گے کیونکہ یہ اُن کا حق نہیں بنتے۔ پھر ایک سوچ یہ بھی آئی کہ بھول جاؤ ان تھوڑے سے پیسوں کو، اتنے تھوڑے سے پیسوں کی کون پرواہ کرتا ہے!!!
ٹرانسپورٹ کمپنی ان بسوں کی کمائی سے لاکھوں پاؤنڈ کماتی بھی تو ہے، ان تھوڑے سے پیسوں سے اُن کی کمائی میں کیا فرق پڑ جائے گا؟ اور میں ان پیسوں کو اللہ کی طرف سے انعام سمجھ کر جیب میں ڈالتا ہوں اور چپ ہی رہتا ہوں…۔
بس امام صاحب کے مطلوبہ سٹاپ پر رُکی تو امام صاحب نے اُترنے سے پہلے ڈرائیور کو بیس پنس واپس کرتے ہوئے کہا؛ یہ لیجیئے بیس پنس، لگتا ہے آپ نے غلطی سے مُجھے زیادہ دے دیئے ہیں۔

ڈرائیور نے بیس پنس واپس لیتے ہوئے مُسکرا کر امام صاحب سے پوچھا؛کیا آپ اس علاقے کی مسجد کے نئے امام ہیں؟ میں بہت عرصہ سے آپ کی مسجد میں آ کر اسلام کے بارے میں معلومات لینا چاہ رہا تھا۔ یہ بیس پنس میں نے جان بوجھ کر تمہیں زیادہ دیئے تھے تاکہ تمہارا اس معمولی رقم کے بارے میں رویہ پرکھ سکوں۔
اور امام صاحب جیسے ہی بس سے نیچے اُترا، اُنہیں ایسے لگا جیسے اُنکی ٹانگوں سے جان نکل گئی ہے، گرنے سے بچنے کیلئے ایک کھمبے کا سہارا لیا، آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر روتے ہوئے دُعا کی، یا اللہ مُجھے معاف کر دینا، میں ابھی اسلام کو بیس پنس میں بیچنے لگا تھا۔۔۔

ہو سکتا ہے کہ ہم کبھی بھی اپنے افعال پر لوگوں کے رد فعل کی پرواہ نہ کرتے ہوں۔
مگر یاد رکھیئے کہ بعض اوقات لوگ صرف قرآن پڑھ کر اسلام کے بارے میں جانتے ہیں۔
یا غیر مسلم ہم مسلمانوں کو دیکھ کر اسلام کا تصور باندھتے ہوں۔
اس طرح تو ہم سب کو دوسروں کیلئے ایک اچھی مثال ہونا چاہیئے۔۔
اور ہمیشہ اپنے معاملات میں سچے اور کھرے بھی۔۔
صرف اتنا ہی ذہن میں رکھ کر، کہیں کوئی ہمارے رویوں کے تعاقب میں تو نہیں؟ اور ہمارے شخصی تصرف کو سب مسلمانوں کی مثال نہ سمجھ بیٹھے۔
یا پھر اسلام کی تصویر ہمارے تصرفات اور رویئے کے مُطابق ذہن میں نہ بٹھا لے!!!

Islam main Imandari ka Tassawar aur Ghair Muslim
5(100%) 3 votes

Bay Naam Say Sapnay Dekha Kar

بے نام سے سپنے دیکھا کر, یہاں اُلٹی گنگا بہتی ہے
اس دیس میں اندھے حاکم ہیں, نہ ڈرتے ہیں نہ نادم ہیں
نہ لوگوں کے وہ خادم ہیں, ہے یہاں پہ کاروبار بہت
اس دیس میں گردے بکتے ہیں,کچھ لوگ ہیں عالی شان بہت
اور کچھ کا مقصد روٹی ہے,وہ کہتے ہیں سب اچھا ہے
مغرب کا راج ہی سچا ہے,یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر
— حبیب جالب —

Bay Naam Say Sapnay Dekha Kar
5(100%) 1 votes

Marasi Ki Chadar Aur Chaudhry

گاؤں نے میراثی کو قیمتی چادر لینے کا بہت شوق تھا ، اس نے بہت سالوں تک پیسے جمع کرکے ایک بہت خوبصورت اور قیمتی چادر تیار کروائی جو اپنی مثال آپ تھی ، گاؤں کے سب لوگوں نے اسکی چادر کی تعریف کی اور بہت پسند کیا ،
کچھ دن بعد گاؤں کے چوہدری کے بیٹے کی شادی تھی ، چوہدری کے بیٹے نے ایک عجیب شرط عائد کردی کہ وہ بارات ایک ہی صورت میں لے کر جائے گا جب میراثی کی خوبصورت چادر اسکے گھوڑے پر ڈالی جائے گی ،مشکل یہ تھی کہ ایسی چادر پورے علاقے میں کسی کے پاس نہ تھی ۔ میراثی کسی صورت بھی چادر دینے پر آمادہ نہیں تھا لیکن چوہدری نے کسی نہ کسی طرح اس سے چادر لے لی اور مجبورا” اسے بھی بارات میں شامل ہونے کا کہہ دیا

میراثی بجھے دل کے ساتھ بارات میں شامل تھا بارات دوسرے گاؤں سے گزر رہی تھی کہ ایک آدمی نے میراثی سے پوچھ لیا کہ بارات کس کی ہے ، میراثی نے جواب دیا کہ بارات تو چوہدری کے بیٹے کی ہے لیکن چادر میری ہے

کچھ اور لوگوں نے بھی یہ بات سن لی اور چوہدری کو بتادی چوہدری نے اس بات میں اپنی بے عزتی محسوس کی اس نے میراثی کو بلا کر سمجھایا کہ کسی کو نہ بتائے کہ چادر اسکی ہے ورنہ لوگ کیا کہیں گے کہ چوہدری نے بیٹے کی شادی پر چادر مانگ کر لی ہے ، میراثی نے کہا ٹھیک ہے جی اب کسی کو نہیں بتاؤں گا کہ چادر میری ہے
چلتے چلتے پھر کسی نے میراثی سے پوچھ لیا کہ بارات کس کی ہے
میراثی نے جواب دیا کہ بارات تو چوہدری کے بیٹے کی ہے لیکن چادر کا پتہ نہیں
چوہدری تک پھر بات پہنچ گئی ، چوہدری کو بہت غصہ آیا اس نے میراثی کو بلا کر کہا کہ یار تم چادر کی بات کرتے ہی کیوں ہو ۔ کیوں لوگوں کو شک میں مبتلا کرتے ہو ، اب اگر چادر کی بات کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا
میراثی اندر ہی اندر غصے میں کھول رہا تھا اچانک ایک آدمی نے اس سے پوچھا کہ یار یہ بارات کس کی ہے
میراثی نے جل کر جواب دیا جاؤ اپنا کام کرو نہ مجھے بارات کا پتہ ہے نہ چادر کا

Marasi Ki Chadar Aur Chaudhry
4(80%) 1 votes

Meri Maan Ji Kay Aaath Jhooth

Meri Maan Ji Kay Aaath Jhooth

ماں کے آٹھ جھوٹ

میری ماں ہمیشہ سچ نہیں بولتی۔۔
آٹھ مرتبہ تو اس نے مجھ سے ضرور جھوٹ بولا،

٭یہ کہانی میری پیدائش سے شروع ہوتی ہے۔۔میں ایک بہت غریب فیملی کا اکلوتا بیٹا تھا۔۔ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہ تھا۔۔۔اور اگر کبھی ہمیں کھانے کو کچھ مل جاتا تو امی اپنے حصے کا کھانا بھی مجھے دے دیتیں اور کہتیں۔۔تم کھا لو مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔یہ میری ماں کا پہلا جھوٹ تھا۔

٭جب میں تھوڑا بڑا ہوا تو ماں گھر کا کام ختم کر کے قریبی جھیل پر مچھلیاں پکڑنے جاتی اور ایک دن اللہ کے کرم سے دو مچھلیاں پکڑ لیں تو انھیں جلدی جلدی پکایا اور میرے سامنے رکھ دیا۔میں کھاتا جاتا اور جو کانٹے کے ساتھ تھوڑا لگا رہ جاتا اسے وہ کھاتی۔۔۔یہ دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا ۔۔میں نے دوسری مچھلی ماں کے سامنے رکھ دی ۔۔اس نے واپس کر دی اور کہا ۔۔بیٹا تم کھالو۔۔تمھیں پتہ ہے نا مچھلی مجھے پسند نہیں ہے۔۔۔یہ میری ماں کا دوسرا جھوٹ تھا۔

٭جب میں سکول جانے کی عمر کا ہوا تو میری ماں نے ایک گارمنٹس کی فیکٹری کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔۔اور گھر گھر جا کر گارمنٹس بیچتی۔۔۔سردی کی ایک رات جب بارش بھی زوروں پر تھی۔۔میں ماں کا انتظار کر رہا تھا جو ابھی تک نہیں آئی تھی۔۔میں انھیں ڈھونڈنے کے لیے آس پاس کی گلیوں میں نکل گیا۔۔دیکھا تو وہ لوگوں کے دروازوں میں کھڑی سامان بیچ رہی تھی۔۔۔میں نے کہا ماں! اب بس بھی کرو ۔۔تھک گئی ہوگی ۔۔سردی بھی بہت ہے۔۔ٹائم بھی بہت ہو گیا ہے ۔۔باقی کل کر لینا۔۔تو ماں بولی۔۔بیٹا! میں بالکل نہیں تھکی۔۔۔یہ میری ماں کا تیسرا جھوٹ تھا

٭ایک روز میرا فائنل ایگزام تھا۔۔اس نے ضد کی کہ وہ بھی میرے ساتھ چلے گی ۔۔میں اندر پیپر دے رہا تھا اور وہ باہر دھوپ کی تپش میں کھڑی میرے لیے دعا کر رہی تھی۔۔میں باہر آیا تو اس نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا اور مجھے ٹھنڈا جوس دیا جو اس نے میرے لیے خریدا تھا۔۔۔میں نے جوس کا ایک گھونٹ لیا اور ماں کے پسینے سے شرابور چہرے کی طرف دیکھا۔۔میں نے جوس ان کی طرف بڑھا دیا تو وہ بولی۔۔نہیں بیٹا تم پیو۔۔۔مجھے پیاس نہیں ہے۔۔یہ میری ماں کا چوتھا جھوٹ تھا۔

٭ میرے باپ کی موت ہوگئی تو میری ماں کو اکیلے ہی زندگی گزارنی پڑی۔۔زندگی اور مشکل ہوگئی۔۔اکیلے گھر کا خرچ چلانا تھا۔۔نوبت فاقوں تک آگئی۔۔میرا چچا ایک اچھا انسان تھا ۔۔وہ ہمارے لیے کچھ نہ کچھ بھیج دیتا۔۔جب ہمارے پڑوسیوں نے ہماری حالت دیکھی تو میری ماں کو دوسری شادی کا مشورہ دیا کہ تم ابھی جوان ہو۔۔مگر میری ماں نے کہا نہیں مجھے سہارے کی ضرورت نہیں ۔۔۔یہ میری ماں کا پانچواں جھوٹ تھا۔

٭جب میں نے گریجویشن مکمل کر لیا تو مجھے ایک اچھی جاب مل گئی ۔۔میں نے سوچا اب ماں کو آرام کرنا چاہیے اور گھر کا خرچ مجھے اٹھانا چاہیے۔۔وہ بہت بوڑھی ہو گئی ہے۔۔میں نے انھیں کام سے منع کیااور اپنی تنخواہ میں سے ان کے لیے کچھ رقم مختص کر دی تو اس نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ۔۔تم رکھ لو۔۔۔میرے پاس ہیں۔۔۔مجھے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔۔یہ اس کا چھٹا جھوٹ تھا

٭میں نے جاب کے ساتھ اپنی پڑھائی بھی مکمل کر لی تو میری تنخواہ بھی بڑھ گئی اور مجھے جرمنی میں کام کی آفر ہوئی۔۔میں وہاں چلا گیا۔۔۔۔ سیٹل ہونے کے بعد انھیں اپنے پاس بلانے کے لیے فون کیا تو اس نے میری تنگی کے خیال سے منع کر دیا۔۔اور کہا کہ مجھے باہر رہنے کی عادت نہیں ہے۔۔میں نہیں رہ پاوں گی۔۔۔یہ میری ماں کا ساتواں جھوٹ تھا۔

٭میری ماں بہت بوڑھی ہو گئی۔۔انھیں کینسر ہو گیا۔۔انھیں دیکھ بھال کے لیے کسی کی ضرورت تھی۔۔میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ان کے پاس پہنچ گیا۔۔وہ بستر پر لیٹی ہوئی تھیں۔۔مجھے دیکھ کر مسکرانے کی کوشش کی۔۔۔میرا دل ان کی حالت پر خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔وہ بہت لاغر ہو گئی تھیں۔۔میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔۔تو وہ کہنے لگیں ۔۔مت رو بیٹا۔۔۔ میں ٹھیک ہوں ۔۔مجھے کوئی تکلیف نہیں ہو رہی۔۔۔یہ میری ماں کا آٹھواں جھوٹ تھا۔۔۔اور پھر میری ماں نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں ۔

اللہ تعالٰی ہمیں ماں کا رشتہ اور ان رشتوں کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو انمول ہیں ۔ اللہ پاک آپ کی اور تمام مسلمانوں کی ماؤں کی مغفرت فرمائے۔ اور جن مسلمانوں کی مائیں زندہ ہیں انہیں خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

خود بھی پڑھیں اور دوسروں سے بھی ضرور شئر کریں

Meri Maan Ji Kay Aaath Jhooth
5(100%) 1 votes

Page 1 of 3123
Funny SMS Text Messages and Jokes Collection © 2015