Tag: urdu messages

Bay Naam Say Sapnay Dekha Kar

Share

بے نام سے سپنے دیکھا کر, یہاں اُلٹی گنگا بہتی ہے
اس دیس میں اندھے حاکم ہیں, نہ ڈرتے ہیں نہ نادم ہیں
نہ لوگوں کے وہ خادم ہیں, ہے یہاں پہ کاروبار بہت
اس دیس میں گردے بکتے ہیں,کچھ لوگ ہیں عالی شان بہت
اور کچھ کا مقصد روٹی ہے,وہ کہتے ہیں سب اچھا ہے
مغرب کا راج ہی سچا ہے,یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر
— حبیب جالب —

Share

Marasi Ki Chadar Aur Chaudhry

Share

گاؤں نے میراثی کو قیمتی چادر لینے کا بہت شوق تھا ، اس نے بہت سالوں تک پیسے جمع کرکے ایک بہت خوبصورت اور قیمتی چادر تیار کروائی جو اپنی مثال آپ تھی ، گاؤں کے سب لوگوں نے اسکی چادر کی تعریف کی اور بہت پسند کیا ،
کچھ دن بعد گاؤں کے چوہدری کے بیٹے کی شادی تھی ، چوہدری کے بیٹے نے ایک عجیب شرط عائد کردی کہ وہ بارات ایک ہی صورت میں لے کر جائے گا جب میراثی کی خوبصورت چادر اسکے گھوڑے پر ڈالی جائے گی ،مشکل یہ تھی کہ ایسی چادر پورے علاقے میں کسی کے پاس نہ تھی ۔ میراثی کسی صورت بھی چادر دینے پر آمادہ نہیں تھا لیکن چوہدری نے کسی نہ کسی طرح اس سے چادر لے لی اور مجبورا” اسے بھی بارات میں شامل ہونے کا کہہ دیا

میراثی بجھے دل کے ساتھ بارات میں شامل تھا بارات دوسرے گاؤں سے گزر رہی تھی کہ ایک آدمی نے میراثی سے پوچھ لیا کہ بارات کس کی ہے ، میراثی نے جواب دیا کہ بارات تو چوہدری کے بیٹے کی ہے لیکن چادر میری ہے

کچھ اور لوگوں نے بھی یہ بات سن لی اور چوہدری کو بتادی چوہدری نے اس بات میں اپنی بے عزتی محسوس کی اس نے میراثی کو بلا کر سمجھایا کہ کسی کو نہ بتائے کہ چادر اسکی ہے ورنہ لوگ کیا کہیں گے کہ چوہدری نے بیٹے کی شادی پر چادر مانگ کر لی ہے ، میراثی نے کہا ٹھیک ہے جی اب کسی کو نہیں بتاؤں گا کہ چادر میری ہے
چلتے چلتے پھر کسی نے میراثی سے پوچھ لیا کہ بارات کس کی ہے
میراثی نے جواب دیا کہ بارات تو چوہدری کے بیٹے کی ہے لیکن چادر کا پتہ نہیں
چوہدری تک پھر بات پہنچ گئی ، چوہدری کو بہت غصہ آیا اس نے میراثی کو بلا کر کہا کہ یار تم چادر کی بات کرتے ہی کیوں ہو ۔ کیوں لوگوں کو شک میں مبتلا کرتے ہو ، اب اگر چادر کی بات کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا
میراثی اندر ہی اندر غصے میں کھول رہا تھا اچانک ایک آدمی نے اس سے پوچھا کہ یار یہ بارات کس کی ہے
میراثی نے جل کر جواب دیا جاؤ اپنا کام کرو نہ مجھے بارات کا پتہ ہے نہ چادر کا

Share

Meri Maan Ji Kay Aaath Jhooth

Share

Meri Maan Ji Kay Aaath Jhooth

ماں کے آٹھ جھوٹ

میری ماں ہمیشہ سچ نہیں بولتی۔۔
آٹھ مرتبہ تو اس نے مجھ سے ضرور جھوٹ بولا،

٭یہ کہانی میری پیدائش سے شروع ہوتی ہے۔۔میں ایک بہت غریب فیملی کا اکلوتا بیٹا تھا۔۔ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہ تھا۔۔۔اور اگر کبھی ہمیں کھانے کو کچھ مل جاتا تو امی اپنے حصے کا کھانا بھی مجھے دے دیتیں اور کہتیں۔۔تم کھا لو مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔یہ میری ماں کا پہلا جھوٹ تھا۔

٭جب میں تھوڑا بڑا ہوا تو ماں گھر کا کام ختم کر کے قریبی جھیل پر مچھلیاں پکڑنے جاتی اور ایک دن اللہ کے کرم سے دو مچھلیاں پکڑ لیں تو انھیں جلدی جلدی پکایا اور میرے سامنے رکھ دیا۔میں کھاتا جاتا اور جو کانٹے کے ساتھ تھوڑا لگا رہ جاتا اسے وہ کھاتی۔۔۔یہ دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا ۔۔میں نے دوسری مچھلی ماں کے سامنے رکھ دی ۔۔اس نے واپس کر دی اور کہا ۔۔بیٹا تم کھالو۔۔تمھیں پتہ ہے نا مچھلی مجھے پسند نہیں ہے۔۔۔یہ میری ماں کا دوسرا جھوٹ تھا۔

٭جب میں سکول جانے کی عمر کا ہوا تو میری ماں نے ایک گارمنٹس کی فیکٹری کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔۔اور گھر گھر جا کر گارمنٹس بیچتی۔۔۔سردی کی ایک رات جب بارش بھی زوروں پر تھی۔۔میں ماں کا انتظار کر رہا تھا جو ابھی تک نہیں آئی تھی۔۔میں انھیں ڈھونڈنے کے لیے آس پاس کی گلیوں میں نکل گیا۔۔دیکھا تو وہ لوگوں کے دروازوں میں کھڑی سامان بیچ رہی تھی۔۔۔میں نے کہا ماں! اب بس بھی کرو ۔۔تھک گئی ہوگی ۔۔سردی بھی بہت ہے۔۔ٹائم بھی بہت ہو گیا ہے ۔۔باقی کل کر لینا۔۔تو ماں بولی۔۔بیٹا! میں بالکل نہیں تھکی۔۔۔یہ میری ماں کا تیسرا جھوٹ تھا

٭ایک روز میرا فائنل ایگزام تھا۔۔اس نے ضد کی کہ وہ بھی میرے ساتھ چلے گی ۔۔میں اندر پیپر دے رہا تھا اور وہ باہر دھوپ کی تپش میں کھڑی میرے لیے دعا کر رہی تھی۔۔میں باہر آیا تو اس نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا اور مجھے ٹھنڈا جوس دیا جو اس نے میرے لیے خریدا تھا۔۔۔میں نے جوس کا ایک گھونٹ لیا اور ماں کے پسینے سے شرابور چہرے کی طرف دیکھا۔۔میں نے جوس ان کی طرف بڑھا دیا تو وہ بولی۔۔نہیں بیٹا تم پیو۔۔۔مجھے پیاس نہیں ہے۔۔یہ میری ماں کا چوتھا جھوٹ تھا۔

٭ میرے باپ کی موت ہوگئی تو میری ماں کو اکیلے ہی زندگی گزارنی پڑی۔۔زندگی اور مشکل ہوگئی۔۔اکیلے گھر کا خرچ چلانا تھا۔۔نوبت فاقوں تک آگئی۔۔میرا چچا ایک اچھا انسان تھا ۔۔وہ ہمارے لیے کچھ نہ کچھ بھیج دیتا۔۔جب ہمارے پڑوسیوں نے ہماری حالت دیکھی تو میری ماں کو دوسری شادی کا مشورہ دیا کہ تم ابھی جوان ہو۔۔مگر میری ماں نے کہا نہیں مجھے سہارے کی ضرورت نہیں ۔۔۔یہ میری ماں کا پانچواں جھوٹ تھا۔

٭جب میں نے گریجویشن مکمل کر لیا تو مجھے ایک اچھی جاب مل گئی ۔۔میں نے سوچا اب ماں کو آرام کرنا چاہیے اور گھر کا خرچ مجھے اٹھانا چاہیے۔۔وہ بہت بوڑھی ہو گئی ہے۔۔میں نے انھیں کام سے منع کیااور اپنی تنخواہ میں سے ان کے لیے کچھ رقم مختص کر دی تو اس نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ۔۔تم رکھ لو۔۔۔میرے پاس ہیں۔۔۔مجھے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔۔یہ اس کا چھٹا جھوٹ تھا

٭میں نے جاب کے ساتھ اپنی پڑھائی بھی مکمل کر لی تو میری تنخواہ بھی بڑھ گئی اور مجھے جرمنی میں کام کی آفر ہوئی۔۔میں وہاں چلا گیا۔۔۔۔ سیٹل ہونے کے بعد انھیں اپنے پاس بلانے کے لیے فون کیا تو اس نے میری تنگی کے خیال سے منع کر دیا۔۔اور کہا کہ مجھے باہر رہنے کی عادت نہیں ہے۔۔میں نہیں رہ پاوں گی۔۔۔یہ میری ماں کا ساتواں جھوٹ تھا۔

٭میری ماں بہت بوڑھی ہو گئی۔۔انھیں کینسر ہو گیا۔۔انھیں دیکھ بھال کے لیے کسی کی ضرورت تھی۔۔میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ان کے پاس پہنچ گیا۔۔وہ بستر پر لیٹی ہوئی تھیں۔۔مجھے دیکھ کر مسکرانے کی کوشش کی۔۔۔میرا دل ان کی حالت پر خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔وہ بہت لاغر ہو گئی تھیں۔۔میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔۔تو وہ کہنے لگیں ۔۔مت رو بیٹا۔۔۔ میں ٹھیک ہوں ۔۔مجھے کوئی تکلیف نہیں ہو رہی۔۔۔یہ میری ماں کا آٹھواں جھوٹ تھا۔۔۔اور پھر میری ماں نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں ۔

اللہ تعالٰی ہمیں ماں کا رشتہ اور ان رشتوں کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو انمول ہیں ۔ اللہ پاک آپ کی اور تمام مسلمانوں کی ماؤں کی مغفرت فرمائے۔ اور جن مسلمانوں کی مائیں زندہ ہیں انہیں خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

خود بھی پڑھیں اور دوسروں سے بھی ضرور شئر کریں

Share

Koi To Hai Jo Nizaam-e-Hasti Chala Raha Hai

Share

Koi To Hai Jo Nizaam-e-Hasti Chala Raha Hai

koi to hai jo nizam-e-hasti chala raha hai

Share

Hathyaar

Share

   ہتھیار یا اوسان

اکبر نے بیربل سے پوچا
” لڑائی کے وقت کیا چیز کام آتی ہے ؟ ”
بیربل نے ادب سے جواب دیا :
” جہان پناہ ! اوسان ۔ ”
بادشاہ نے کہا :
” حیرت کی بات ہے تونے ہتھیار یا زور کا نام نہیں لیا ؟ ”
بیربل نے عرض کیا :
” جہاں پناہ! اگر اوسان خطا ہوجائیں تو ہتھیار اور زور کس کام آئے ؟ “!!!!

Share

Zahid Riyakar – زاہد ریا کار

Share

Zahid Riyakar – زاہد ریا کار

ایک زاہد ایک بادشاہ کا مہمان ہوا جب دسترخوان پربیٹھے تو اس نے اپنی بھوک اورمعمول سے بھی کم کھانا کھایا
اورجب نماز کے لئے اٹھا تو اس نے عام دنوں سے زیادہ نماز و دعائيں پڑھیں تاکہ لوگ اس کے بارے میں نیک خیال ظاہرکریں اوراسے ایک بڑا زاہد تصور کریں ۔ جب وہ زاہد اپنے گھر لوٹا تو گھروالوں سے کہا کہ اس کے لئے کھانا لایا جائے ۔ وہ دوبارہ کھانا کھائے گا ۔ اس زاہد کے چالاک اورعقلمند بیٹے نے باپ سے پوچھا ۔ ” بابا ابھی تو آپ بادشاہ کے محل سے آئے ہیں کیا وہاں آپ کو کھانا نہیں ملا اور بھوکے ہی آپ گھر لوٹ آئے ؟” باپ نے کہا کیوں نہيں ؟ کھانا تھا لیکن جتنا ميں کھاتا ہوں اتنا آج نہيں کھایا تاکہ لوگ میرے بارےمیں اچھی رائے قائم کريں اور آئندہ کبھی یہ بات میرے کام آئے ۔ بیٹے نے کہا کہ پس اٹھئے اوراپنی نمازبھی دوبارہ پڑھئے
کیونکہ وہ نمازجوآپ نےوہاں پڑھی ہے وہ بھی آپ کے کام نہيں آئے گی ۔

Share