Funny SMS Text Messages and Jokes Collection

funny sms jokes,funny sms, funny text messages, funny jokes

Urdu Kahaniyan

Namaz Rah-e-Nijaat

Share

ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺐ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﯽ ﺍﺫﺍﻥ ﮨﻮﺋﯽ ﺁﺝ ﺟﺎﺏ ﺳﮯ ﺁﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ . ﻣﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ ﺧﺘﻢ ﮨﯽ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻠﺪﯼ ﺟﻠﺪﯼ ﻭﺿﻮ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮔﯿﻠﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﺎﺅ ﮞ ﻟﯿﮑﺮ ﺟﺎﻧﻤﺎﺯ ﭘﺮ ﻧﯿﺖ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﯼ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ … ﻣﯿﺮﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﭨﭙﮏ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺁﺳﺘﯿﻦ ﺳﮯ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﺘﯽ …
ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﯽ ﮐﯽ ﺩﻭﺍﺋﯿﺎﮞ ﻻﻧﺎ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﯽ ﺗﻬﯽ … ﺁﺝ ﺁﻓﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﮐﺎﻡ ﺗﮭﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻼ ..
ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮏ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺠﻬﮯ ﻟﮕﺎ , ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺭﮮ ﻟﻮﮒ ﺟﻤﻊ ﺗﮭﮯ ﺳﺐ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﮐﺘﺎﺏ ﺗﮭﯽ، . ،
ﻣﺠﮭﮯ ﮐﭽﮫ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺁ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺗﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺘﺎﺏ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﻤﺎ ﺩﯼ ﺟﺲ ﭘﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﮭﻮﻟﯽ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﭼﮭﮯ ﺑﺮﮮ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻟﮑﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻣﺮ ﮔﺌﯽ ﮨﻮﮞ ?
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﺐ ﻃﺮﻑ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﮔﮭﻤﺎﺋﯿﮟ ﺳﺐ ﺍﯾﮏ ﻻﺋﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺍ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ
ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﻣﺮ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﺘﺎﺏ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺍﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯽ …
ﺟﺐ ﺳﺐ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮨﻮ ﮔﺌﮟ ﺗﺐ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺁﯾﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ..
ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺩﮬﮍﮐﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺁﺝ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ ? ﺁﺝ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﮐﯿﺎﮨﻮﮔﺎ ?
ﺗﺒﻬﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﺋﯽ ﺟﮩﻨﻢ …
ﻣﺠﮭﮯﯾﻘﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﯾﮧ ﮨﻮﮔﺎ ﻣﯿﮟ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ..
ﺗﺒﮭﯽ ﺩﻭ ﺧﻄﺮﻧﺎﮎ ﺳﺎﺋﮯ ﺁﮮ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﮭﺴﯿﭩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﯿﺨﺘﯽ ﺭﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﭽﺎﺅ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﭽﺎﺅ ﺳﺐ ﺳﮩﻤﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺭﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ …
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼﻠّﺎ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﻏﻠﻂ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ، ﮐﺒﮭﯽ ﺟﮭﻮﭦ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻮﻻ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﭼﻐﻠﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ،ﺳﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﯾﺎ، ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺟﮩﻨﻢ ﻣﯿﮟ ﭘﻬﯿﻨﮏ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ?
ﮐﻮﺋﯽ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯽ ﺑﻮﻻ ﺻﺮﻑ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮭﯿﻨﭽﺘﮯ ﺭﮨﮯ . ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﯽ ﺁﮒ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯽ . ﺍﺳﮑﺎ ﻣﻨﮧ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﻭﺭ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ . ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺭﺳّﯽ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ..
ﺗﺒﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﯾﺎﺩ ﺁﺋﯽ … ﻣﯿﮟ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﭼﻼﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻤﺎﺯ , ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ ???
ﺟﮩﻨﻢ ﮐﺎ ﻣﻨﮧ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺗﮭﺎ . ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ , ﻣﯿﮟ ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﮔﺮﻣﯽ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ , ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺱ ﮔﺮﻣﯽ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮐﺮﻭﻧﮕﯽ ??
ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺭﻭ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ
ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﮮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﻨﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻬﺎ .
ﻣﯿﮟ ﭼﻼّﺋﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﺍ .
ﺍﯾﮏ ﺳﺎﮮ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﮩﻨﻢ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﮑﺎّ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﯽ ﺗﭙﺘﯽ ﺁﮒ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮕﺎ ﯾﮧ ﮨﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﺣﺸﺮ ﮨﮯ .
ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ .
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺩﮨﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﺰﺭﮒ ﮐﮭﮍﮮ ﺗﮭﮯ . ﺳﻔﯿﺪ ﮈﺍﮌﻫﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺭﺍﻧﯽ ﭼﮩﺮﮦ ﻟﺌﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ .
ﻧﯿﭽﮯ ﺩﻭﺯﺥ ﮐﯽ ﺁﮒ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﮭﻠﺴﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﭽﻞ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ .
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺑﺰﺭﮒ ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯽ ﺍﺳﮑﯽ ﺗﭙﺶ ﭨﮭﻨﮉﮎ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﮔﺊ، .
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺁﭖ ﮐﻮﻥ ﮨﯿﮟ ?
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﮭﯿﭻ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻧﻤﺎﺯ …. ﻣﺠﮭﮯ ﻏﺼﮧ ﺁﮔﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ , ﺁﭖ ﺍﺗﻨﯽ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺁﮮ ﮨﯿﮟ ?. ﺁﭖ ﺍﮔﺮ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﺁﺗﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﻨﻤﯽ ﺑﻦ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﺗﯽ ..
ﺑﺰﺭﮒ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ .
ﺗﺒﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﮭﻞ ﮔﺌﯽ .
ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﮨﻼ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ..
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻣﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﮐﮭﮍﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻝ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﻧﻤﺎﺯ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯿﻮﮞ ﭼﻼّ ﺭﮨﯽ ﮨﻮ ???
ﻣﯿﺮﯼ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﭨﻬﮑﺎﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ …
ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮦ ﺗﮭﯽ .. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻣﯽ ﮐﻮ ﮔﻠﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﺁﺝ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻭﻧﮕﯽ … ،ﺍﻧﺸﺎﺀﺍﻟﻠ

Namaz Rah-e-Nijaat
4.9(98%) 10 votes

Share

Islam main Imandari ka Tassawar aur Ghair Muslim

Share

سالوں پہلے کی بات ہے جب ایک امام مسجد صاحب روزگار کیلئے برطانیہ کے شہر لندن پُہنچے تو روازانہ گھر سے مسجد جانے کیلئے بس پر سوار ہونا اُنکا معمول بن گیا۔
لندن پہنچنے کے ہفتوں بعد، لگے بندھے وقت اور ایک ہی روٹ پر بسوں میں سفر کرتے ہوئے کئی بار ایسا ہوا کہ بس بھی وہی ہوتی تھی اور بس کا ڈرائیور بھی وہی ہوتا تھا۔
ایک مرتبہ یہ امام صاحب بس پر سوار ہوئے، ڈرائیور کو کرایہ دیا اور باقی کے پیسے لیکر ایک نشست پر جا کر بیٹھ گئے۔ ڈرائیور کے دیئے ہوئے باقی کے پیسے جیب میں ڈالنے سے قبل دیکھے تو پتہ چلا کہ بیس پنس زیادہ آگئے ہیں۔
امام صاحب سوچ میں پڑ گئے، پھر اپنے آپ سے کہا کہ یہ بیس پنس وہ اترتے ہوئے ڈرائیور کو واپس کر دیں گے کیونکہ یہ اُن کا حق نہیں بنتے۔ پھر ایک سوچ یہ بھی آئی کہ بھول جاؤ ان تھوڑے سے پیسوں کو، اتنے تھوڑے سے پیسوں کی کون پرواہ کرتا ہے!!!
ٹرانسپورٹ کمپنی ان بسوں کی کمائی سے لاکھوں پاؤنڈ کماتی بھی تو ہے، ان تھوڑے سے پیسوں سے اُن کی کمائی میں کیا فرق پڑ جائے گا؟ اور میں ان پیسوں کو اللہ کی طرف سے انعام سمجھ کر جیب میں ڈالتا ہوں اور چپ ہی رہتا ہوں…۔
بس امام صاحب کے مطلوبہ سٹاپ پر رُکی تو امام صاحب نے اُترنے سے پہلے ڈرائیور کو بیس پنس واپس کرتے ہوئے کہا؛ یہ لیجیئے بیس پنس، لگتا ہے آپ نے غلطی سے مُجھے زیادہ دے دیئے ہیں۔

ڈرائیور نے بیس پنس واپس لیتے ہوئے مُسکرا کر امام صاحب سے پوچھا؛کیا آپ اس علاقے کی مسجد کے نئے امام ہیں؟ میں بہت عرصہ سے آپ کی مسجد میں آ کر اسلام کے بارے میں معلومات لینا چاہ رہا تھا۔ یہ بیس پنس میں نے جان بوجھ کر تمہیں زیادہ دیئے تھے تاکہ تمہارا اس معمولی رقم کے بارے میں رویہ پرکھ سکوں۔
اور امام صاحب جیسے ہی بس سے نیچے اُترا، اُنہیں ایسے لگا جیسے اُنکی ٹانگوں سے جان نکل گئی ہے، گرنے سے بچنے کیلئے ایک کھمبے کا سہارا لیا، آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر روتے ہوئے دُعا کی، یا اللہ مُجھے معاف کر دینا، میں ابھی اسلام کو بیس پنس میں بیچنے لگا تھا۔۔۔

ہو سکتا ہے کہ ہم کبھی بھی اپنے افعال پر لوگوں کے رد فعل کی پرواہ نہ کرتے ہوں۔
مگر یاد رکھیئے کہ بعض اوقات لوگ صرف قرآن پڑھ کر اسلام کے بارے میں جانتے ہیں۔
یا غیر مسلم ہم مسلمانوں کو دیکھ کر اسلام کا تصور باندھتے ہوں۔
اس طرح تو ہم سب کو دوسروں کیلئے ایک اچھی مثال ہونا چاہیئے۔۔
اور ہمیشہ اپنے معاملات میں سچے اور کھرے بھی۔۔
صرف اتنا ہی ذہن میں رکھ کر، کہیں کوئی ہمارے رویوں کے تعاقب میں تو نہیں؟ اور ہمارے شخصی تصرف کو سب مسلمانوں کی مثال نہ سمجھ بیٹھے۔
یا پھر اسلام کی تصویر ہمارے تصرفات اور رویئے کے مُطابق ذہن میں نہ بٹھا لے!!!

Islam main Imandari ka Tassawar aur Ghair Muslim
5(100%) 3 votes

Share

Marasi Ki Chadar Aur Chaudhry

Share

گاؤں نے میراثی کو قیمتی چادر لینے کا بہت شوق تھا ، اس نے بہت سالوں تک پیسے جمع کرکے ایک بہت خوبصورت اور قیمتی چادر تیار کروائی جو اپنی مثال آپ تھی ، گاؤں کے سب لوگوں نے اسکی چادر کی تعریف کی اور بہت پسند کیا ،
کچھ دن بعد گاؤں کے چوہدری کے بیٹے کی شادی تھی ، چوہدری کے بیٹے نے ایک عجیب شرط عائد کردی کہ وہ بارات ایک ہی صورت میں لے کر جائے گا جب میراثی کی خوبصورت چادر اسکے گھوڑے پر ڈالی جائے گی ،مشکل یہ تھی کہ ایسی چادر پورے علاقے میں کسی کے پاس نہ تھی ۔ میراثی کسی صورت بھی چادر دینے پر آمادہ نہیں تھا لیکن چوہدری نے کسی نہ کسی طرح اس سے چادر لے لی اور مجبورا” اسے بھی بارات میں شامل ہونے کا کہہ دیا

میراثی بجھے دل کے ساتھ بارات میں شامل تھا بارات دوسرے گاؤں سے گزر رہی تھی کہ ایک آدمی نے میراثی سے پوچھ لیا کہ بارات کس کی ہے ، میراثی نے جواب دیا کہ بارات تو چوہدری کے بیٹے کی ہے لیکن چادر میری ہے

کچھ اور لوگوں نے بھی یہ بات سن لی اور چوہدری کو بتادی چوہدری نے اس بات میں اپنی بے عزتی محسوس کی اس نے میراثی کو بلا کر سمجھایا کہ کسی کو نہ بتائے کہ چادر اسکی ہے ورنہ لوگ کیا کہیں گے کہ چوہدری نے بیٹے کی شادی پر چادر مانگ کر لی ہے ، میراثی نے کہا ٹھیک ہے جی اب کسی کو نہیں بتاؤں گا کہ چادر میری ہے
چلتے چلتے پھر کسی نے میراثی سے پوچھ لیا کہ بارات کس کی ہے
میراثی نے جواب دیا کہ بارات تو چوہدری کے بیٹے کی ہے لیکن چادر کا پتہ نہیں
چوہدری تک پھر بات پہنچ گئی ، چوہدری کو بہت غصہ آیا اس نے میراثی کو بلا کر کہا کہ یار تم چادر کی بات کرتے ہی کیوں ہو ۔ کیوں لوگوں کو شک میں مبتلا کرتے ہو ، اب اگر چادر کی بات کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا
میراثی اندر ہی اندر غصے میں کھول رہا تھا اچانک ایک آدمی نے اس سے پوچھا کہ یار یہ بارات کس کی ہے
میراثی نے جل کر جواب دیا جاؤ اپنا کام کرو نہ مجھے بارات کا پتہ ہے نہ چادر کا

Marasi Ki Chadar Aur Chaudhry
4(80%) 1 votes

Share

Meri Maan Ji Kay Aaath Jhooth

Share

Meri Maan Ji Kay Aaath Jhooth

ماں کے آٹھ جھوٹ

میری ماں ہمیشہ سچ نہیں بولتی۔۔
آٹھ مرتبہ تو اس نے مجھ سے ضرور جھوٹ بولا،

٭یہ کہانی میری پیدائش سے شروع ہوتی ہے۔۔میں ایک بہت غریب فیملی کا اکلوتا بیٹا تھا۔۔ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہ تھا۔۔۔اور اگر کبھی ہمیں کھانے کو کچھ مل جاتا تو امی اپنے حصے کا کھانا بھی مجھے دے دیتیں اور کہتیں۔۔تم کھا لو مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔یہ میری ماں کا پہلا جھوٹ تھا۔

٭جب میں تھوڑا بڑا ہوا تو ماں گھر کا کام ختم کر کے قریبی جھیل پر مچھلیاں پکڑنے جاتی اور ایک دن اللہ کے کرم سے دو مچھلیاں پکڑ لیں تو انھیں جلدی جلدی پکایا اور میرے سامنے رکھ دیا۔میں کھاتا جاتا اور جو کانٹے کے ساتھ تھوڑا لگا رہ جاتا اسے وہ کھاتی۔۔۔یہ دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا ۔۔میں نے دوسری مچھلی ماں کے سامنے رکھ دی ۔۔اس نے واپس کر دی اور کہا ۔۔بیٹا تم کھالو۔۔تمھیں پتہ ہے نا مچھلی مجھے پسند نہیں ہے۔۔۔یہ میری ماں کا دوسرا جھوٹ تھا۔

٭جب میں سکول جانے کی عمر کا ہوا تو میری ماں نے ایک گارمنٹس کی فیکٹری کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔۔اور گھر گھر جا کر گارمنٹس بیچتی۔۔۔سردی کی ایک رات جب بارش بھی زوروں پر تھی۔۔میں ماں کا انتظار کر رہا تھا جو ابھی تک نہیں آئی تھی۔۔میں انھیں ڈھونڈنے کے لیے آس پاس کی گلیوں میں نکل گیا۔۔دیکھا تو وہ لوگوں کے دروازوں میں کھڑی سامان بیچ رہی تھی۔۔۔میں نے کہا ماں! اب بس بھی کرو ۔۔تھک گئی ہوگی ۔۔سردی بھی بہت ہے۔۔ٹائم بھی بہت ہو گیا ہے ۔۔باقی کل کر لینا۔۔تو ماں بولی۔۔بیٹا! میں بالکل نہیں تھکی۔۔۔یہ میری ماں کا تیسرا جھوٹ تھا

٭ایک روز میرا فائنل ایگزام تھا۔۔اس نے ضد کی کہ وہ بھی میرے ساتھ چلے گی ۔۔میں اندر پیپر دے رہا تھا اور وہ باہر دھوپ کی تپش میں کھڑی میرے لیے دعا کر رہی تھی۔۔میں باہر آیا تو اس نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا اور مجھے ٹھنڈا جوس دیا جو اس نے میرے لیے خریدا تھا۔۔۔میں نے جوس کا ایک گھونٹ لیا اور ماں کے پسینے سے شرابور چہرے کی طرف دیکھا۔۔میں نے جوس ان کی طرف بڑھا دیا تو وہ بولی۔۔نہیں بیٹا تم پیو۔۔۔مجھے پیاس نہیں ہے۔۔یہ میری ماں کا چوتھا جھوٹ تھا۔

٭ میرے باپ کی موت ہوگئی تو میری ماں کو اکیلے ہی زندگی گزارنی پڑی۔۔زندگی اور مشکل ہوگئی۔۔اکیلے گھر کا خرچ چلانا تھا۔۔نوبت فاقوں تک آگئی۔۔میرا چچا ایک اچھا انسان تھا ۔۔وہ ہمارے لیے کچھ نہ کچھ بھیج دیتا۔۔جب ہمارے پڑوسیوں نے ہماری حالت دیکھی تو میری ماں کو دوسری شادی کا مشورہ دیا کہ تم ابھی جوان ہو۔۔مگر میری ماں نے کہا نہیں مجھے سہارے کی ضرورت نہیں ۔۔۔یہ میری ماں کا پانچواں جھوٹ تھا۔

٭جب میں نے گریجویشن مکمل کر لیا تو مجھے ایک اچھی جاب مل گئی ۔۔میں نے سوچا اب ماں کو آرام کرنا چاہیے اور گھر کا خرچ مجھے اٹھانا چاہیے۔۔وہ بہت بوڑھی ہو گئی ہے۔۔میں نے انھیں کام سے منع کیااور اپنی تنخواہ میں سے ان کے لیے کچھ رقم مختص کر دی تو اس نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ۔۔تم رکھ لو۔۔۔میرے پاس ہیں۔۔۔مجھے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔۔یہ اس کا چھٹا جھوٹ تھا

٭میں نے جاب کے ساتھ اپنی پڑھائی بھی مکمل کر لی تو میری تنخواہ بھی بڑھ گئی اور مجھے جرمنی میں کام کی آفر ہوئی۔۔میں وہاں چلا گیا۔۔۔۔ سیٹل ہونے کے بعد انھیں اپنے پاس بلانے کے لیے فون کیا تو اس نے میری تنگی کے خیال سے منع کر دیا۔۔اور کہا کہ مجھے باہر رہنے کی عادت نہیں ہے۔۔میں نہیں رہ پاوں گی۔۔۔یہ میری ماں کا ساتواں جھوٹ تھا۔

٭میری ماں بہت بوڑھی ہو گئی۔۔انھیں کینسر ہو گیا۔۔انھیں دیکھ بھال کے لیے کسی کی ضرورت تھی۔۔میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ان کے پاس پہنچ گیا۔۔وہ بستر پر لیٹی ہوئی تھیں۔۔مجھے دیکھ کر مسکرانے کی کوشش کی۔۔۔میرا دل ان کی حالت پر خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔وہ بہت لاغر ہو گئی تھیں۔۔میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔۔تو وہ کہنے لگیں ۔۔مت رو بیٹا۔۔۔ میں ٹھیک ہوں ۔۔مجھے کوئی تکلیف نہیں ہو رہی۔۔۔یہ میری ماں کا آٹھواں جھوٹ تھا۔۔۔اور پھر میری ماں نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں ۔

اللہ تعالٰی ہمیں ماں کا رشتہ اور ان رشتوں کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو انمول ہیں ۔ اللہ پاک آپ کی اور تمام مسلمانوں کی ماؤں کی مغفرت فرمائے۔ اور جن مسلمانوں کی مائیں زندہ ہیں انہیں خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

خود بھی پڑھیں اور دوسروں سے بھی ضرور شئر کریں

Meri Maan Ji Kay Aaath Jhooth
5(100%) 1 votes

Share
Page 1 of 11
Funny SMS Text Messages and Jokes Collection © 2015