Funny SMS Text Messages and Jokes Collection

funny sms jokes,funny sms, funny text messages, funny jokes

Urdu Kahani

Namaz Rah-e-Nijaat

FacebookTwitterGoogle+Share

ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺐ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﯽ ﺍﺫﺍﻥ ﮨﻮﺋﯽ ﺁﺝ ﺟﺎﺏ ﺳﮯ ﺁﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ . ﻣﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ ﺧﺘﻢ ﮨﯽ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻠﺪﯼ ﺟﻠﺪﯼ ﻭﺿﻮ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮔﯿﻠﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﺎﺅ ﮞ ﻟﯿﮑﺮ ﺟﺎﻧﻤﺎﺯ ﭘﺮ ﻧﯿﺖ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﯼ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ … ﻣﯿﺮﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﭨﭙﮏ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺁﺳﺘﯿﻦ ﺳﮯ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﺘﯽ …
ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﯽ ﮐﯽ ﺩﻭﺍﺋﯿﺎﮞ ﻻﻧﺎ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﯽ ﺗﻬﯽ … ﺁﺝ ﺁﻓﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﮐﺎﻡ ﺗﮭﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻼ ..
ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮏ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺠﻬﮯ ﻟﮕﺎ , ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺭﮮ ﻟﻮﮒ ﺟﻤﻊ ﺗﮭﮯ ﺳﺐ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﮐﺘﺎﺏ ﺗﮭﯽ، . ،
ﻣﺠﮭﮯ ﮐﭽﮫ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺁ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺗﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺘﺎﺏ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﻤﺎ ﺩﯼ ﺟﺲ ﭘﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﮭﻮﻟﯽ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﭼﮭﮯ ﺑﺮﮮ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻟﮑﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻣﺮ ﮔﺌﯽ ﮨﻮﮞ ?
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﺐ ﻃﺮﻑ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﮔﮭﻤﺎﺋﯿﮟ ﺳﺐ ﺍﯾﮏ ﻻﺋﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺍ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ
ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﻣﺮ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﺘﺎﺏ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺍﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯽ …
ﺟﺐ ﺳﺐ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮨﻮ ﮔﺌﮟ ﺗﺐ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺁﯾﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ..
ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺩﮬﮍﮐﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺁﺝ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ ? ﺁﺝ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﮐﯿﺎﮨﻮﮔﺎ ?
ﺗﺒﻬﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﺋﯽ ﺟﮩﻨﻢ …
ﻣﺠﮭﮯﯾﻘﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﯾﮧ ﮨﻮﮔﺎ ﻣﯿﮟ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ..
ﺗﺒﮭﯽ ﺩﻭ ﺧﻄﺮﻧﺎﮎ ﺳﺎﺋﮯ ﺁﮮ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﮭﺴﯿﭩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﯿﺨﺘﯽ ﺭﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﭽﺎﺅ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﭽﺎﺅ ﺳﺐ ﺳﮩﻤﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺭﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ …
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼﻠّﺎ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﻏﻠﻂ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ، ﮐﺒﮭﯽ ﺟﮭﻮﭦ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻮﻻ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﭼﻐﻠﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ،ﺳﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﯾﺎ، ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺟﮩﻨﻢ ﻣﯿﮟ ﭘﻬﯿﻨﮏ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ?
ﮐﻮﺋﯽ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯽ ﺑﻮﻻ ﺻﺮﻑ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮭﯿﻨﭽﺘﮯ ﺭﮨﮯ . ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﯽ ﺁﮒ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯽ . ﺍﺳﮑﺎ ﻣﻨﮧ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﻭﺭ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ . ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺭﺳّﯽ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ..
ﺗﺒﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﯾﺎﺩ ﺁﺋﯽ … ﻣﯿﮟ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﭼﻼﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻤﺎﺯ , ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ ???
ﺟﮩﻨﻢ ﮐﺎ ﻣﻨﮧ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺗﮭﺎ . ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ , ﻣﯿﮟ ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﮔﺮﻣﯽ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ , ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺱ ﮔﺮﻣﯽ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮐﺮﻭﻧﮕﯽ ??
ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺭﻭ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ
ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﮮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﻨﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻬﺎ .
ﻣﯿﮟ ﭼﻼّﺋﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﺍ .
ﺍﯾﮏ ﺳﺎﮮ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﮩﻨﻢ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﮑﺎّ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﯽ ﺗﭙﺘﯽ ﺁﮒ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮕﺎ ﯾﮧ ﮨﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﺣﺸﺮ ﮨﮯ .
ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ .
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺩﮨﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﺰﺭﮒ ﮐﮭﮍﮮ ﺗﮭﮯ . ﺳﻔﯿﺪ ﮈﺍﮌﻫﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺭﺍﻧﯽ ﭼﮩﺮﮦ ﻟﺌﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ .
ﻧﯿﭽﮯ ﺩﻭﺯﺥ ﮐﯽ ﺁﮒ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﮭﻠﺴﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﭽﻞ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ .
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺑﺰﺭﮒ ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯽ ﺍﺳﮑﯽ ﺗﭙﺶ ﭨﮭﻨﮉﮎ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﮔﺊ، .
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺁﭖ ﮐﻮﻥ ﮨﯿﮟ ?
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﮭﯿﭻ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻧﻤﺎﺯ …. ﻣﺠﮭﮯ ﻏﺼﮧ ﺁﮔﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ , ﺁﭖ ﺍﺗﻨﯽ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺁﮮ ﮨﯿﮟ ?. ﺁﭖ ﺍﮔﺮ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﺁﺗﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﻨﻤﯽ ﺑﻦ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﺗﯽ ..
ﺑﺰﺭﮒ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ .
ﺗﺒﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﮭﻞ ﮔﺌﯽ .
ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﮨﻼ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ..
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻣﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﮐﮭﮍﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻝ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﻧﻤﺎﺯ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯿﻮﮞ ﭼﻼّ ﺭﮨﯽ ﮨﻮ ???
ﻣﯿﺮﯼ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﭨﻬﮑﺎﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ …
ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮦ ﺗﮭﯽ .. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻣﯽ ﮐﻮ ﮔﻠﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﺁﺝ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻭﻧﮕﯽ … ،ﺍﻧﺸﺎﺀﺍﻟﻠ

Namaz Rah-e-Nijaat
4.9(98%) 10 votes

Islam main Imandari ka Tassawar aur Ghair Muslim

سالوں پہلے کی بات ہے جب ایک امام مسجد صاحب روزگار کیلئے برطانیہ کے شہر لندن پُہنچے تو روازانہ گھر سے مسجد جانے کیلئے بس پر سوار ہونا اُنکا معمول بن گیا۔
لندن پہنچنے کے ہفتوں بعد، لگے بندھے وقت اور ایک ہی روٹ پر بسوں میں سفر کرتے ہوئے کئی بار ایسا ہوا کہ بس بھی وہی ہوتی تھی اور بس کا ڈرائیور بھی وہی ہوتا تھا۔
ایک مرتبہ یہ امام صاحب بس پر سوار ہوئے، ڈرائیور کو کرایہ دیا اور باقی کے پیسے لیکر ایک نشست پر جا کر بیٹھ گئے۔ ڈرائیور کے دیئے ہوئے باقی کے پیسے جیب میں ڈالنے سے قبل دیکھے تو پتہ چلا کہ بیس پنس زیادہ آگئے ہیں۔
امام صاحب سوچ میں پڑ گئے، پھر اپنے آپ سے کہا کہ یہ بیس پنس وہ اترتے ہوئے ڈرائیور کو واپس کر دیں گے کیونکہ یہ اُن کا حق نہیں بنتے۔ پھر ایک سوچ یہ بھی آئی کہ بھول جاؤ ان تھوڑے سے پیسوں کو، اتنے تھوڑے سے پیسوں کی کون پرواہ کرتا ہے!!!
ٹرانسپورٹ کمپنی ان بسوں کی کمائی سے لاکھوں پاؤنڈ کماتی بھی تو ہے، ان تھوڑے سے پیسوں سے اُن کی کمائی میں کیا فرق پڑ جائے گا؟ اور میں ان پیسوں کو اللہ کی طرف سے انعام سمجھ کر جیب میں ڈالتا ہوں اور چپ ہی رہتا ہوں…۔
بس امام صاحب کے مطلوبہ سٹاپ پر رُکی تو امام صاحب نے اُترنے سے پہلے ڈرائیور کو بیس پنس واپس کرتے ہوئے کہا؛ یہ لیجیئے بیس پنس، لگتا ہے آپ نے غلطی سے مُجھے زیادہ دے دیئے ہیں۔

ڈرائیور نے بیس پنس واپس لیتے ہوئے مُسکرا کر امام صاحب سے پوچھا؛کیا آپ اس علاقے کی مسجد کے نئے امام ہیں؟ میں بہت عرصہ سے آپ کی مسجد میں آ کر اسلام کے بارے میں معلومات لینا چاہ رہا تھا۔ یہ بیس پنس میں نے جان بوجھ کر تمہیں زیادہ دیئے تھے تاکہ تمہارا اس معمولی رقم کے بارے میں رویہ پرکھ سکوں۔
اور امام صاحب جیسے ہی بس سے نیچے اُترا، اُنہیں ایسے لگا جیسے اُنکی ٹانگوں سے جان نکل گئی ہے، گرنے سے بچنے کیلئے ایک کھمبے کا سہارا لیا، آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر روتے ہوئے دُعا کی، یا اللہ مُجھے معاف کر دینا، میں ابھی اسلام کو بیس پنس میں بیچنے لگا تھا۔۔۔

ہو سکتا ہے کہ ہم کبھی بھی اپنے افعال پر لوگوں کے رد فعل کی پرواہ نہ کرتے ہوں۔
مگر یاد رکھیئے کہ بعض اوقات لوگ صرف قرآن پڑھ کر اسلام کے بارے میں جانتے ہیں۔
یا غیر مسلم ہم مسلمانوں کو دیکھ کر اسلام کا تصور باندھتے ہوں۔
اس طرح تو ہم سب کو دوسروں کیلئے ایک اچھی مثال ہونا چاہیئے۔۔
اور ہمیشہ اپنے معاملات میں سچے اور کھرے بھی۔۔
صرف اتنا ہی ذہن میں رکھ کر، کہیں کوئی ہمارے رویوں کے تعاقب میں تو نہیں؟ اور ہمارے شخصی تصرف کو سب مسلمانوں کی مثال نہ سمجھ بیٹھے۔
یا پھر اسلام کی تصویر ہمارے تصرفات اور رویئے کے مُطابق ذہن میں نہ بٹھا لے!!!

Islam main Imandari ka Tassawar aur Ghair Muslim
5(100%) 3 votes

Aik Boorha 100 Jawan – ایک بوڑھا اور سو جوان

  • Aik Boorha 100 Jawan –  ایک بوڑھا اور سو جوان

    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص کی شادی اس کے ساتھ والے گاؤں میں طے پائی کہ فلاں دن دولہا بارات لے کر آئے اور اپنی دلہن لے جائے لیکن ساتھ میں لڑکی والوں نے ایک شرط بھی رکھ دی کہ دولہا اپنے ساتھ جو بارات لائے گا اس میں ایک سو نوجوان ہونے چاہیں اور کوئی بھی بوڑھا شامل نہیں ہونا چاہیے،یہ عجیب شرط سن کر دولہے والے بڑے حیران ہوئیپر پھر بھی شرط منظور کر لی۔ لیکن دل ہی دل میں وہ پریشان بھی تھے کہ آخر ایسا کیا ماجرا ہے اور کیوں بوڑھوں کو ساتھ لانیسے منع کیا گیا ہے۔ دولہے کے گاؤں کے نوجوان خوش تھے کہ اس بارات میں کوئی بڑا بوڑھا نہیں جائے گا اور وہ مزے لوٹتے اور ہنستے کھیلتے بارات لے کر جائیں گئے۔
    دوسری جانب گاؤں کے بڑے دانا بوڑھے پریشا ن ہو رہے تھے کہ آیا انہیں کیوں روکا گیا ہے۔ خیر بارات کے جانے کا دن آن پہنچا ،دولہے کا سہرا باندھا گیا ،جب بارات دوسرے گاؤں روانگی کے لیے تیار تھی تو اسی لمحے گاؤں کے بزرگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ بارات کے ساتھ ایک بوڑھا تھوڑے فاصلہ رکھ کر جائے گا اور سارے معا ملات پر نظر رکھے گا۔ نوجوانوں کو یہ بات بری لگی انہوں نے کہا کہ ہم ایک سو نوجوان ہیں،ہم ہر طرح کے حالات سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،ہم اپنے بھائی کی دلہن لے کر لوٹیں گے چاہے جو مرضی ہو جائے،مگر بڑے بزرگ نہیں مانے اور ایک بوڑھے کو بارات سے فاصلہ رکھ کر چلنے کو کہا،
    بارات جب روانہ ہوئی تو راستے میں نوجوانوں نے دل میں بہت برا محسوس کیا کہ ہم ایک سو نوجوان جو بہادر ہیں،طاقت رکھتے ہیں،توانا ہیں،بڑے بڑے پہاڑوں کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو ایسے میں ایک بوڑھے شخص کا جو مشکل سے چل رہا ہے ،ہاتھ میں اس کے لاٹھی ہے،آنکھوں پر چشمہ لگایا ہوا ہے،کھانس کھانس کر اور بلغم تھوکتا ہوا ساتھ آ رہا ہے،اس کا کچھ فائدہ نہیں،خیر دل میں برا بھلا کہتے ہوئے یہ نوجوان اپنے بھائی،دوست کی بارات لیے دوسرے گاؤں میں دلہن کے گھر پہنچ گئے،دلہن کے عزیز و اقارب نے جب باراتیوں کو گننا شروع کیا تو وہ پورے ایک سو صحت مند و توانا اور جوشیلے نوجوان ان کے سامنے موجود تھے اور ان میں کوئی بھی بوڑھا موجود نہیں تھا،یہ دیکھ کر وہ دل ہی دل میں مسکرائے اور کہا کہ دولہا کا نکاح اب اس وقت ہی ہو گا جب دوسری شرط بھی پوری کی جائے گی اوردوسری شرط یہ ہے کہ جب ایک سو نوجوان ایک سو بکرے کھائیں گے تب ہی نکاح اور دلہن کی رخصتی ممکن ہوگی،شرط کے سنتے ہی نوجوانوں کے اوسان خطا ء ہو گئے اور وہ پریشانی سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے اور آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے سے باتیں کرنے لگے کہ اب کیا ہو گا؟ ان نوجوانوں میں سے ہی ایک نوجوان کو اچانک خیال آیا کہ بارات کے ساتھ ایک بوڑھا بھی کچھ فاصلہ رکھ کر ان کے پیچھے آ رہا تھا ،وہ نوجوان مجمعے سے آنکھیں بچاتا اور چھپتے چھپاتے ہوئے باہر کو نکلا اور فاصلہ رکھ کر ساتھ آنے والے بزرگ کو ڈھونڈنے لگا ،اس نوجوان کو وہ بزرگ ایک درخت کی اوٹ میں آرام کرتے ہوئے ملے اور اس نے جلدی سے سارا واقع ان کے سامنے بیان کیا اور رہنمائی طلب کی،بوڑھے نے سارا واقع سنا اور کہا کہ تم واپس جاؤ اور دلہن والوں کے سامنے اپنی شرط پیش کرو کہ بکر ا ایک ایک کر کے ان کے سامنے لایا جائے اور جب ایک بکر ا ان کے سامنے پہنچے تو سب نوجوان ایک دم ہی اس پر ٹوٹ پڑیں اور اکٹھے کھائیں۔ نوجوان بوڑھے شخص سے ہدایات لے کر واپس پہنچا اور اس نے وہی کیا جیسا کہ اسے ہدایت کی گئی تھی،یہ سارا منظر و ماجرا دیکھ کر دولہن والے پریشان ہوگئے اور دولہے والوں نے دلہن والوں کی یہ شرط پوری کر دی اور ایک سو بکرے کھا لیے۔اور پھر نکاح کے بعد دلہن کو لے کر بارات ہنسی خوشی واپس آ گئی ۔نوجوانوں کو پھر احساس ہوا کہ کس طرح ایک بزرگ نے رہنمائی کر کے ان کی پریشانی کو راحت میں تبدیل کر دیا ۔
    اوپرکی سطور میں تمثیلاً ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ آج ہم اپنے بزرگوں کا وجود اپنے لیئے غیر اہم سمجھتے ہیں۔ ان کی صحبت میں وقت گزارنا ہم پر گراں گزرتا ہے چہ جائے کہ ہم ان کی نصیحت آموز باتوں کو اپنے لیئے توشۂ زیست سمجھیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم نوجوان جذباتی ہیں جو ظاہری دکھائی دے رہا ہوتا ہے اسے سب کچھ تصور کرلیتے ہیں جبکہ ہم تصویر کا دوسرا رخ نہیں دیکھ پاتے جو بزرگ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ بزرگوں نے اپنی زندگی کے تجربات سے گزرتے ہوئے اپنے بال سفید کیئے ہوتے ہیں۔ ان کے پاس علم وعمل ،مشاہدات و تجربات کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں۔ ہم نوجوانوں کو چاہیے کہ جذبات کو ایک طرف رکھ کے اپنے بزرگوں کی حکمت بھری باتوں پر عمل کرتے ہوئے ان کے تجربات سے مستفید ہوں ۔ یقیناً بزرگوں و داناؤں کی حکمت بھری گفتگو اوررہنمائی ہم نوجوانوں کو زندگی میں کبھی کسی کے سامنے شرمندہ نہیں ہونے دے گی۔نیک بزرگوں،بڑوں ،داناؤں کی صحبت کسی بھی صحت مند معاشرے کا سرمایہ ہوا کرتی ہے۔ نوجوانوں کی ناکامی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ان کے پاس سب کے لیے وقت ہے مگر اپنے بزرگوں کے ساتھ کچھ پل گزارنے کا وقت نہیں ہے۔ کیونکہ ہم نوجوانوں کو ان کی باتیں نشترکی طرح چھبتی ہیں کیونکہ وہ باتیں حقیقت پر مبنی ہوتیں ہیں اور یہی وہ حقیقت ہے جس سے آنکھیں چرانے کے لیے نوجوان بڑوں ،بزرگوں اور داناؤں کی مجالس سے دوری اختیارکرتا ہے۔ ہمیں اس پر سوچنا ہو گا کہ صحت مند معاشرے اور آئندہ آنے والی نسلی کی ترقی کے حصول کی خاطر بزرگوں سے رہنمائی لینا ہوگی اور یہی ہماری کامیابیوں کے لیے راہیں متعین کرے گی۔


Page 1 of 11
Funny SMS Text Messages and Jokes Collection © 2015