Funny SMS Text Messages and Jokes Collection

funny sms jokes,funny sms, funny text messages, funny jokes



Behra Kon Tum Ya Main

Share

Behra Kon Tum Ya Main

ایک پریشان حال خاوند ڈاکٹر کے پاس گیا ۔
” ڈاکٹر جی! میرا خیال ہے کہ میری بیوی بالکل بہری ہوگئ ہے، مجھے کئ کئ بار اپنی بات دہرانی پڑتی ہے۔ تب وہ جواب دیتی ہے۔ بتائیں کیا کروں ؟”
ڈاکٹر نے کہا کہ پہلے اس بات کا یقین کرلو کہ کیا وہ واقعی بہری ہے اورا ونچا سنتی ہے۔ پھر اس کو یہاں لے آنا، چیک اپ کرلیں گے
، اس کے بعد اس کا علاج شروع کردیں گے۔ تم ایسا کرو کہ آج گھر جا کر بیوی کو کوئی بات 15 فٹ کے فاصلے سے کہنا۔ اور اس کا ردعمل دیکھنا۔
اگر وہ کوئی جواب نہ دے تو دس فٹ کے فاصلے سے وہی بات کہنا۔ پھر بھی نہ سنے تو 5 فٹ کی دوری سے وہی بات کہنا۔ پھر بھی نہ سنے تو بالکل پاس آکر کہنا۔
اس سے ہمیں یہ پتہ چل جائے گا کہ بہرہ پن کی شدت کی نوعیت کیا ہے؟ علاج میں آسانی رہے گی۔
خاوند گھر آیا تو دیکھا کہ بیوی رسوئی ( کچن ) میں سبزی کاٹ رہی ہے۔ اس نے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق 15 فٹ کی دوری سے پوچھا، بیگم آج کھانے میں کیا ہے؟
بیوی کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا
اس نے اب دس فٹ کی دوری سے اپنا سوال دہرایا
بیوی کی طرف سے پھر بھی کوئی جواب نہ آیا۔ وہ سر جھکائے سبزی کاٹنے میں مشغول رہی۔
میاں اور نزدیک آگیا۔ صرف 5 فٹ کی دوری سے پوچھا
اب کی بار بھی بیوی اسی طرح سر جھکائے اپنا کام کرتی رہی۔
میاں پریشان ہوگیا۔ وہ بالکل سامنے کھڑا ہوگیا اور کوئی تین انچ کی دوری سے پوچھا۔” بیگم! میں نے پوچھا ہے کہ آج کیا پکارہی ہو؟”
بیوی نے سر اٹھایا اور کہا، ” چوتھی بار بتارہی ہوں کہ سبزی گوشت !!”

Behra Kon Tum Ya Main

Share

Allah’s kindness

Share

Allah’s kindness

ایک بزرگ سے کسی نے پوچھا “میں صدقہ خیرات کرنا چاہتا ہوں
لیکن مجھے اندازہ نہیں کہ کون حق دار ہے اور کون نہیں ۔
” بزرگ نے کہا “تم اس کو دے دو جو حق دار ہے ۔ ”
اور اس کو بھی دے دو جو حق دار نہیں،”  اللہ تجھے وہ دے گا جس کا تو حق دار ہے
اور وہ بھی دے گا جس کا تو حق دار نہیں ہے ۔”

Allah’s kindness
5(100%) 1 votes

Share

Mohamed Ramadan Mubarak

Share

Bob and Steve, two non-Muslim friends who happen to be lost in a desert.
After days of walking without any water or food, they noticed a Mosque.

Bob said: “Yes, thank God! I will walk in saying that my name is Mohamed,
and you say that your name is Ahmed, this way we’ll get some food! Deal?”

Steve said: “No, I’m sticking with my name.”

They walked into the Mosque and the Sheikh saw them.

The Sheikh asked: “What are your names?”
Bob said: “My name is Mohamed.”
Steve said: “My name is Steve.”
Sheikh said: “Guys, please bring some food and water for Steve.
And you Mohamed, Ramadan Mubarak

Mohamed Ramadan Mubarak

Share

Life’s Earnings

Share

زندگی بھر کی کمائی، صرف ایک سو روپیہ Life’s Earnings

اس نے گاڑی پوسٹ آفس کے باہر روک دی، “ابا یہ لیجیے آپ یہ 100 روپے رکھ لیجیے جب پینشن لے چکیں گے تو رکشے میں گھر چلے جائیے گا، مجھے دفتر سے دیر ہو رہی ہے”۔۔
بوڑھے باپ کو اُتار کر وہ تیزی سے گاڑی چلاتا ہوا آگے نکل گیا، افضل چند لمحے بیٹے کی دور جاتی ہوئی گاڑی کو دیکھتا رہا پھر ایک ہاتھ میں پینشن کے کاغذ اور ایک ہاتھ میں بیٹے کا دیا ہوا سو روپے کا نوٹ پکڑے وہ اُس لمبی سی قطار کے آخرمیں جا کر کھڑا ہو گیا جس میں اُسی جیسے بہت سے بوڑھے کھڑے تھے، سب کے چہروں پر عمر رفتہ کے نشیب و فراز پرانی قبروں پر لگے دُھندلے کتبوں کی مانند کندہ تھے۔آج پینشن لینے کا دن تھا، قطار لمبی ہوتی جارہی تھی، پوسٹ آفس کی جانب سے پینشن کی رقم ادا کرنے کا عمل خاصا سست تھا۔ سورج آگ برساتا تیزی سے منزلیں طے کرنے میں مصروف تھا، بے رحم تپتی دھوپ بوڑھوں کو بے حال کرنے لگی، کچھ اُدھر ہی قطار میں ہی بیٹھ گئے، افضل بھی بے حال ہونے لگا، اُس نے اپنے آپ کو سنبھالنے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہا اور لڑکھڑا کر اُدھر قطار میں ہی بیٹھ گیا،
اچانک ذہن کے پردے پر اپنے بیٹے کا بچپن ناچنے لگا، وہ جب کبھی اچھلتے کودتے گر جاتا تو وہ کیسے دوڑ کر اُسے اپنی بانہوں میں اٹھا لیتا تھا، اس کے کپڑوں سے دھول جھاڑتا، اُس کے آنسو نکلنے سے پہلے ہی اُسے پچکارتا، پیار کرتا، مگر آج وہ خود لڑکھڑا کر دھول میں لتھڑ رہا تھا اور اُسے اٹھانے والا اُسے یہاں اس طرح چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ وہ مٹھی کھول کر100 روپے کے اس نوٹ کو دیکھنے لگا جو صبح بیٹا اُس کے ہاتھ میں تھما کر چلا گیا تھا، وہ سوچنے لگا کہ ساری عمر ایمانداری سے ملازمت کر کے، بیٹے کو پڑھا لکھا کر، اُس کی شادی کر کے کیا اُس کی زندگی کا سفر اس 100 روپے کے نوٹ پر آ کر ختم ہو گیا ہے؟
(ماخوذ )

Life’s Earnings
5(100%) 1 votes

Share

Door Andesh – دور اندیش

Share

Door Andesh – دور اندیش

دفتر میں پرانی فائلوں کے رش کی وجہ سے افسر بہت پریشان تھا
اس نے اپنے سیکریٹری سے کہا کہ ان فائلوں کو ضائع کر دے۔
ایک مہینہ گزر جانے کے بعد بھی افسر نے دیکھا کہ فائلیں جوں کی توں پڑی ہوئی ہیں
تو اس نے اپنے سیکریٹری سے پوچھا کہ تم نے انہیں ضائع کیوں نہیں کیا تو
وہ بولا ”جناب وہ ساری فائلیں تو میں نے جلا دیں البتہ اس سوچ سے
کہ مستقبل میں ان کی ضرورت ہو سکتی ہے اس لئے ان سب کی کاپی کروا لی ہے

Door Andesh – دور اندیش

Share

An Excerpt from Baba Freed’s Poetry About Life

Share

..کوئی چھوڑکے شیش محل چلیا
کوئی پلیا ناز تے نخریاں وچ،
کوئی ریت گرم تےتھل چلیا
کوئی بھل گیا مقصد آون دا،
کوئی کرکے مقصدحل چلیا
اتھےھرکوئی “فرید” مسافر اے
کوئی اج چلیا کوئی كل چليا

An Excerpt from Baba Freed's Poetry About Life
An Excerpt from Baba Freed’s Poetry About Life
5(100%) 1 votes

Share

Entertainment By Ashfaq Ahmed – انٹرٹینمنٹ

Share

انٹرٹینمنٹ

ایک صوفی تھکا ہارا جنگل میں جا رہا تھا ۔ اور چلتے چلتے ایک ایسی جگہ پر پہنچ گیا جہاں جنگل کے جانوروں کا اجتماع تھا اور محفل مباحثہ گرم تھی ۔ اس صوفی کو چونکہ جانوروں کی بولیوں کا علم تھا اس لیے وہ رک کر سننے لگا ۔ مباحثے کی صدارت ایک بوڑھے شیر کی سپرد تھی ۔ سب سے پہلے لومڑی اسٹیج پر آئی اور کہا بردارنِ دشت سنئیے اور یاد رکھئیے کہ “چاند سورج سے بڑا ہے اور اس زیادہ روشن ہے”۔

ہاتھی نے اپنی باری پر کہا ” گرمیاں سردیوں کے مقابلے میں زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہیں ” ۔جب باگھ اسٹیج پر آیا تو سارے جانور اس کی خوبصورتی سے مسحور ہوگئے ۔ اس نے اپنے پیلے بدن پر سیاہ دھاریوں کو لہرا کر کہا “سنو بھائیو ! دریا ہمیشہ سے اوپر کو چڑہتے ہیں ” ۔صوفی نے شیر ببر سے کہا صاحبِ صدر ! یہ سب غضب کے مقرر ہیں اور ان کی وضاحت نے اس محفل کو ہلا کر رکھ دیا ہے لیکن میں حیران ہوں کہ سارے مقررین نے سارے ہی بیان غلط دیئےہیں اور ہر بات الٹ کہی ہے۔سامعین کو یا تو پتہ نہیں یا انہوں نے توجہ نہیں دی یا پھر وہ لا تعلقی سے سنتے رہے ہیں ۔ ایسی احمقانہ اور غلط باتیں کرنے کی کس نے اجازت دی۔ شیر نے کہا ” صوفی صاحب ! یہ واقعی ایک عیبدار بات ہے اور شرمناک بات ہے لیکن ہمارے سامعین انٹرٹینمنٹ مانگتے ہیں انلائنمنٹ نہیں ۔ پتہ نہیں ہم کو یہ عادت کیسے پڑی لیکن پڑ گئی ہے صوفی صاحب “۔

اشفاق احمد بابا صاحب  صفحہ518
Entertainment By Ashfaq Ahmed – انٹرٹینمنٹ
4(80%) 1 votes

Share
Funny SMS Text Messages and Jokes Collection © 2018