Zaviya – Behroop By Ishfaq Ahmedاشفاق احمد زاویہ – بہروپ

Share
Zaviya - Behroop By Ishfaq Ahmedاشفاق احمد زاویہ - بہروپ

یہ ایک بھری برسات کا ذکر ہے ۔ آسمان سے ڈھیروں پانی برس رہا تھا اور میری کیفیت اُس طرح تھی کی جیسے میرے دل کے اندر بارش ہو رہی ہے ۔ کچھ ایسا ہی مینہ بستی کے اوپر بھی برس رہا تھا۔ میں تھوڑا سا ذخم خوردہ تھا۔ اس ذخم کا مداوا میرے پاس نہ تھا، ماسواے اس کے کہ میں ڈیرے پر چلوں اور اپنے بابا کی خدمت میں اظہار کروں – بات یہ تھی کی میرے ایک بہت ہی پیارے دوست جو میرے ساتھی بھی تھے، وہ افسانہ نگار تھے اور کالم بھی لکھتے تھے۔ انہوں نے کالموں میں میری بڑی کھچائی کی تھی۔ اور جب کالم نویس رگیدتا ہے تو جس کھچائی ہوتی ہے اس کے پاس کوئی اخبار نہیں ہوتا جس میں وہ جواب الجواب لکھ سکے۔ وہ بے چارہ غم زدہ ہو کر گھر بیٹھ جاتا ہے- میرے ساتھ بھی انہوں نے کچھ ایسا ہی کیا تھا اور تابڑ توڑ تین چارسخت حملے کئے تھے۔

میں اپنے دکھ کا اظہار کرنے کے لئے ڈیرے پر چلا گیا اور بابا جی سے کہا ، “میں بڑا دکھی ہوں اس اس بات کی مجھے بڑی تکلیف ہے ۔ اس شخص نے جو میرے بظاہر دوست ہیں ، ہم سے محبت کے ساتھ ملتے ہیں اور ٹی ہاوس میں ایک دوسرے کا ساتھ بھی دیتے ہیں اور لوگوں کو پتا بھی نہیں چلتا کہ وہ اس طرح کی کارستانی میرے لئے کر سکتا ہے – پھر یہ کیا ہے ”

انہوں نے کہا: “اوہ پت! آپ اس کو سمجھے نہیں، یہ بڑی سمجھ داری کی بات ہے۔ دو صوفی تھے۔ ایک بڑا صوفی ٹرینڈ اور ایک چھوٹا صوفی انڈر ٹریننگ۔ چھوٹے صوفی کو ساتھ لے کر بڑا صوفی گلیوں، بازاروں میں گھومتا رہا۔ چلتے چلاتے اس کو لے کر ایک جنگل میں چلا گیا۔ جیسے کہ میں نے پہلے عرض کی، بڑی تابڑ توڑ بارش ہوئی تھی، جنگل بھیگا ہوا تھا اور اس جنگل میں جگہ جگہ لکڑیاں کے ڈھیر تھے۔ پتوں کے، شاخوں کے انبار تھے۔ اس بڑے صوفی نے دیکھا کہ شاخوں اور پتوں کے ڈھیر میں ایک سانپ کچھ مرجھایا ہوا، کچھ سنگھڑایا ہوا پڑا ہوا ہے۔ وہ پہلے آگ کی حدت سے زخم خوردہ تھا اور پھر اس پر جو بارش پڑی تو وہ زندہ سانپوں میں سے ہو گیا۔ صوفی کو بڑا ترس آیا۔ اس نے آگے بڑھ کر سانپ کو اٹھا لیا۔
چھوٹے صوفی نے کہا، حضور کیا کرتے ہیں، سانپ ہے موذی ہے، اس کو اٹھایا نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا: ‘ نہیں بے چارہ ہے، مجبور ہے، زخمی ہے،زخم خوردہ ہے اللہ کی مخلوق ہے۔ اس کی کچھ غورو پرداخت کرنی چاہیے‘ تو وہ سانپ کو ہاتھ میں لے کر چلے۔ پھر دونوں باتیں کرتے کرتے کافی منزلیں طے کرتے گئے۔ جب ٹھنڈی ہوا لگی، جھولتے ہوئے سانپ کو، تو اسے ہوش آنے لگا اور جب ہوش آیا تو طاقتور ہو گیا۔طاقتور ہو گیا تو اس نے صوفی صاحب کے ہاتھ پر ڈس لیا۔ جب ڈسا تو انہوں نے سانپ کو بڑی محبت اور پیار کے ساتھ ایک درخت کی جڑ کے پاس رکھ دیا کیونکہ وہ اب ایک محفوظ جگہ پر پہنچ گیا ہے۔ اب یہ یہاں پر آہستہ آہستہ اپنے آپ کو ریوائیو(Revive) کر لے گا۔ جہاں بھی اس کا دل ہو گا، چلا جائے گا۔ چھوٹے صوفی نے کہا: ‘دیکھیں سر! میں نے کہا تھا نا کہ یہ موذی جانور ہے، آپ کو ڈس لے گا۔ پھر کیوں ساتھ اٹھا کے لے جا رہے ہیں؟ آپ تو بہت دانشمند ہیں، مجھے سکھانے پر مامور ہیں۔ ‘ تو انہوں نے کہا: “ڈسا نہیں اس کا شکریہ ادا کرنے کا یہی طریقہ ہے۔سانپ اسی طرح شکریہ ادا کیا کرتے ہیں۔ “یہ جو تمھارے خلاف لکھتا ہے، اس کا شکریہ ادا کرنے کا یہی طریقہ ہے۔ تم ناراض نہ ہو۔“

میرے دل پر بڑا بھاری بوجھ تھا، دور ہو گیا اور میں بالکل ہلکا پھلکا ہو گیا۔ تو خواتین و حضرات! یہ ڈیرے، یہ خانقاہیں یا جن کو تکیے کہہ لیں، یہ اسی کا مقصد کے لیے ہوتے ہیں کہ دل کا بوجھ جو آدمی سے خود اٹھائے نہیں اٹھتا، وہ ان کے پاس لے جائے۔ اور “بابے“ کے پاس جا کر آسانی سے سمجھ میں آنے کے لیے عرض کرے۔

فرض کریں ماڈرن دنیا میں کسی قسم کا ایک ڈیرہ ہو، جس میں سائیکی ایٹ رسٹ(Psychiatrist) بیٹھا ہو، لیکن وہ فیس نہ لے، یا سائیکالوجسٹ ہو جس کے پاس وہ بنچ نہ ہو جس پر لٹا کر Analysis کرتے ہیں، بلکہ بچھانے کے لیے صف ہو۔ اس پر ایسا سامان ہو کہ آمنے سامنے بیٹھ کر بات کر سکیں۔ تو ان ڈیروں کو، ان تکیوں کو شمالی افریقہ میں، الجزائر میں تیونس میں“زاویے“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کو “زاویہ“ کہتے ہیں۔ کچھ “رباط“ بھی کہتے ہیں وہاں پر، لیکن زاویہ زیادہ مستعمل ہے۔ حیران کن بات ہے، باوجود اس کے کہ زاویہ ایک خاص اسم ظرف مکان ہے شمالی افریقہ کا، لیکن اندلس کے زمانے میں اندلس کی سرزمین پر زاویے نہیں تھے۔تیونس، الجزائر میں رباط تھے۔ یہاں صوفی لوگ بیٹھ کر لوگوں کو، آنے جانے والوں کو ایک چھت فراہم کرتے تھے۔ رہنے کے لیے جگہ دیتے تھے۔کھانے کے لیے روٹی، پانی دیتے تھے۔ کچھ دیر لوگ بیٹھتے تھے۔ دکھی لوگ آتے تھے۔ اپنا دکھ بیان کرتے تھے اور ان سے شفا حاصل کر کے ڈائیلاگ کرتے تھے۔ سچ مچ! جو سائیکالوجسٹ کہا کرتے ہیں، وہ مہیا کرتے تھے، ہم نے بھی اسی تقلید میں پروگرام کا نام زاویہ رکھا ہے۔ اس لحاظ سے تو مجھے تھوڑی سی شرمندگی ہے کہ یہ اصل زاویہ نہیں ہے۔نقل بمطابق اصل ہے لیکن سپرٹ(روح) اس کی وہی ہے۔ کوشش اس کی یہی ہے کہ اس طرح کی باتیں یہاں ہوتی رہیں اور طبیعت کا بوجھ، جو پروگراموں میں کالموں اور کتابوں سے دور نہیں ہوتا، وہ کسی طور پر یہاں دور ہو سکے۔

آپ جب بھی کسی ڈیرے پر، کسی بزرگ سے ملنے جائیں گے تو آپ کے لاشعور میں ٹیسٹ کا ایک میٹر(Meter) ضرور ہو گا۔ میں دیکھوں، یہ کیسا آدمی ہے؟ آپ اکثر یہ کہہ کر چلے آتے ہیں کہ یار وہاں گئے تھے، وہ تو کچھ نہیں ہے۔ اپنے معیار کے ساتھ آدمی چیک کرتا ہے، لیکن جب آپ پوری طلب کے ساتھ، امتحان پاس کرنے کا اندازہ اختیار کیے ہوئے جائیں تو پھر آپ کو ان خاکستروں میں سے عجیب قسم کے لعل مل جاتے ہیں۔مشکل تو ہو گی کہ وہاں سندھ چلے جائیں۔ تھر پارکر کے ڈیزرٹ میں چلے جائیں یا روہی میں چلے جائیں۔ کچھ نہ کچھ آپ کو دانش کی بات مل جائے گی۔ دانش کی بات جو ہے، یہ ایسے ہی لوگوں سے ملتی ہے،کتابوں سے نہیں ملتی۔
تو میں یہ عرض کر رہا تھا کہ زاویہ، باوجود اس کے کہ یہ اصل زاویہ نہیں ہے لیکن اس کی خوبی اس کی سپرٹ ویسی ہی رکھنی کی کوشش کی گئی ہے۔
سپرٹ سے یاد آیا کہ اورنگزیب عالمگیر کے دربار میں ایک بہروپیا آیا اور اسنے کہا: “ باوجود اس کے کہ آپ رنگ ورامش، گانے بجانے کو برا سمجھتے ہیں، شہنشاہِ معظم! لیکن میں فن کار ہوں اور ایک فن کار کی حیثیت سے آپ کے خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور میں بہروپیا ہوں۔ میرا نام کندن بہروپیا ہے اور میں ایسا بہروپ بدل سکتا ہوں کہ شہنشاہِ معظم، جن کو اپنے تبحرِ علمی پر بڑا ناز ہے، دھوکا دے سکتا ہوں، اور میں غچہ دے کر بڑی کامیابی کے ساتھ نکل جاتا ہوں۔
اورنگزیب عالمگیر نے کہا: “ یہ بات توضیعِ اوقات ہے۔ میں تو شکار کو بھی بیکار سمجھتا ہوں۔ یہ تم جو چیز میرے پاس لائے ہو، اس کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔“اس نے کہا: “ نہیں صاحب ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔ آپ اتنے شہنشاہ ہیں اور دانش میں اپنا جواب نہیں رکھتے۔ میں بھیس بدلوں گا، آپ پہچان کر دکھایئے۔“
تو انہوں نے کہا: “ منظور ہے۔“
اس نے کہا: “ حضور آپ وقت کے شہنشاہ ہیں۔ اگر تو آپ نے مجھے پہچان لیا تو میں آپ کا دینے دار ہوں۔ لیکن اگر آپ مجھے پہچان نہ سکے اور میں نے ایسا بھیس بدلا تو میں آپ سے پانچ سو روپیہ لوں گا۔“ ظاہر ہے اس وقت پانچ سو بہت ہوں گے۔ شہنشاہ نے کہا: “ٹھیک ہے۔ پانچ سو میرے لیے کچھ نہیں ہے، منظور ہے،جاؤ۔“ تو وہ شرط طے کر کے چلا گیا اور پھر سوچنے لگا۔ گھر جا کر بھی پریشان ہوا کہ میں شیخی میں ایسی شرط بد کر آ گیا ہوں۔میں کون سا ایسا روپ بدلوں کہ بادشاہ کو پتا نہ ۔ پھرتا پھراتا تحقیق و تفتیش کرتا رہا لوگوں سے پتہ چلا اورنگ زیب عالمگیر ساؤتھ انڈیا میں مرہٹوں پر اور بہمنی سلطنتوں پر اکثر حملے کیا کرتا تھا۔ انہوں نے کہا، یہ سال چھوڑ کر اگلے سال پھر ان پر حملہ کرے گا۔ یہ خبر بہروپیے کو جو وقائع نگار تھے، انہوں نے بتائی۔ اس نے کہا، ٹھیک ہے۔ چنانچہ وہ یہاں سے پاپیادہ سفر کرتا ہوا اس مقام پر پہنچ گیا جہاں بہمنی سلطنت تھی۔وہاں جاکر اس نے ایک بزرگ کا روپ دھارا۔ ڈاڑھی بڑھا لی۔ سبز کپڑے پہن لیے۔ بڑے بڑے منکے گلے میں ڈال لیے، اور اللہ کی یاد میں ایسا مستغرق ہوا ک بڑی دیر تک بہت دور تک لوگوں کو اپنے اس سحر میں مبتلا کرتا رہا۔ ارد گرد کے لوگ جو تھے، بابا پیر کی محبت میں گرفتار ہو گئے۔ لوگ آنے لگے اور طرح طرح کے چڑھاوے چڑھانے لگے۔ جیسا کہ ہمارے یہاں کا رواج ہے۔ دور دور تک اس کا نام آنے لگا۔ لیکن استقامت کے ساتھ سال بھر اس کی ریاضت میں مصروف رہا جو بزرگ کیا کرتے ہیں۔
ایک سال کے بعد جب اپنا لاؤ لشکر لے کر اورنگ زیب عالمگیر ساؤتھ انڈیا پہنچھا اور پڑاؤ ڈالا تو تھوڑا سا وہ خوف زدہ تھا۔ اور جب اس نے مرہٹوں کے پیشوا پر حملہ کیا تو وہ اتنی مضبوطی کے ساتھ قلعہ بند تھے اس کی فوجیں توڑ نہ سکیں۔ پریشانی کا عالم ہو گیا اور یقین ہو گیا کہ شاید اس کو نا کام لوٹنا پڑے اور اس کی حکومت پر برا اثر پڑے۔ چنانچہ لوگوں نے کہا، یہاں ایک درویش ولی اللہ رہتے ہیں۔ درخت کے نیچے۔ آپ ان کی خدمت میں حاضر ہوں اور ان سے جا کر ڈسکس کریں۔ پھر دعا کریں اور پھر ٹوٹ پڑیں۔ شہنشاہ پریشان تھا، بے چارہ بھاگا بھاگا گیا ان کے پاس۔ سلام کیا اور کہا: “ حضور میں آپ کی خدمت میں ذرا۔۔۔۔“ انہوں نے کہا: “ ہم فقیر آدمی ہیں۔ ہمیں ایسی چیزوں سے کیا لینا دینا۔“ شہنشاہ نے کہا: “ نہیں عالم اسلام پر بڑا مشکل وقت ہے(جیسے انسان بہانے کیا کرتا ہے) آپ ہماری مدد کریں۔ میں کل اس قلعے پر حملہ کرنا چاہتا ہوں۔ تو فقیر نے فرمایا: “ نہیں کل مت کریں، پرسوں کریں اور پرسوں بعد نمازِ ظہر۔“اور نگزیب نے کہا جی بہت اچھا۔ چنانچہ اس نے نمازِ ظہر جو حملہ کیا اور ایسے زور کا کیا اور جذبے سے کیا اور پیچھے فقیر کی دعا تھی، اور ایسی دعا کہ وہ قلعہ ٹوٹ گیا اور فتح ہو گئی۔ مفتوح جو تھے وہ پاؤں پڑ گئے۔ بادشاہ مرہٹوں کے پیشوا پر فتح مند کامران ہونے کے بعد سیدھا درویش کی خدمت میں حاضر ہوا۔ باوجود کہ وہ ٹوپیاں سی کے اور قرآن لکھ کر گزارا کرتا تھا لیکن سبز رنگ کا بڑا سا عمامہ پہنتا تھا بڑے زمرد اور جواہر لگے ہوتے تھے۔ اس نے جا کر عمامہ اتارا اور کھڑا ہو گیا۔ دست بستہ کہ حضور یہ سب کچھ آپ ہی کی بدولت ہوا ہے۔
اس نے کہا: “ نہیں جو کچھ کیا اللہ نے کیا ہے۔ “ انہوں نے کہا کہ آپ کی خدمت میں کچھ پیش کرنا چاہتا ہوں حضور۔ درویش نے کہا: “ نہیں ہم فقیر لوگ ہیں۔“ اس نے کہا کہ دو پر گنے کی معافی دو بڑے قصبے۔ اتنے بڑے جتنے آپ کے اوکاڑہ اور پتوکی ہیں۔ وہ ان کو دیتا ہوں اور زمین اور آئندہ پانچ سات پشتوں کے لیے ہر طرح کی معافی ہے۔
اس نے کہا: “ بابا یہ ہمارے کس کام کی ہیں ساری چیزیں۔ ہم تو فقیر لوگ ہیں۔ تیری بڑی مہربانی۔“

اورنگزیب نے بڑا زور لگایا، لیکن وہ نہیں مانا اور بادشاہ مایوس ہو کر واپس آ گیا۔ اس نے اپنے تخت کے اوپر متمکن ہو کر ایک نیا فرمان جاری کیا۔ جب شہنشاہ فرمان جاری کر رہا تھا، عین اس وقت کندن بہروپیا اسی طرح منکے پہنے آیا۔ شہنشاہ نے کہا:
“حضور آپ یہاں کیوں تشریف لائے۔ آپ مجھے حکم دیتے، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا۔“ کندن نے کہا: نہیں شہنشاہِ معظم! اب یہ ہمارا فرض تھا، ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے، تو جنابِ عالی میں کندن بہروپیا ہوں۔ میرے پانچ سو روپے مجھے عنایت فرمائیں۔“
اس نے کہا: تم وہ ہو ؟ اس نے کہا، ہاں وہی ہوں جو آج سے ڈیڑھ برس پہلے آپ سے وعدہ کر کے گیا تھا۔
اورنگزیب نے کہا: “ مجھے پانچ سو روپیہ دینے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں، جب میں نے آپ کو دو پر گنے اور دو قصبے کی معافی دی۔ جب آپ کے نام اتنی زمین کر دی۔ جب میں نے آپ کی سات پشتوں کو یہ رعایت دی کہ اس میری مملکت میں جہاں چاہیں جس طرح چاہیں رہیں۔ آپ نے اس وقت کیوں انکار کر دیا۔ یہ پانچ سو روپیہ تو کچھ بھی نہیں۔“
اس نے کہا: “حضور بات یہ ہے جن کا روپ دھارا تھا، ان کی عزت مقصود تھی۔ وہ سچے لوگ ہیں۔ ہم جھوٹے لوگ ہیں۔ یہ میں نہیں کر سکتا تھا۔ کہ روپ سچوں کا دھاروں اور پھر بے ایمانی کروں۔“
تو خواتین و حضرات! میں یہ عرض کر رہا تھا کہ ہمارا زاویہ دو نمبر ہی سہی، بے شک بہروپ ہی سہی، تو آپ دعا کریں۔ اس میں کچھ ایسا باتیں، کچھ ایسے مسئلے، کچھ ایسی پیچیدگیاں، کچھ ایسے بوجھ دور ہوتے رہیں جو کسی اور طرح سے نہیں ہو پاتے۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *