پچھتاوا

Posted by on February 24, 2020


Share

پچھتاوا

جوانی چڑھ گئی تو میں گھر دیر سے آنے لگا، رات دیر تک گھر سے باہر رہنا اور سارا سارا دن سوئے رہنا معمول بن گیا ، امی نے بہت منع کیا لیکن میں باز نہ آیا۔ شروع شروع میں وہ میری وجہ سے دیر تک جاگتی رہتیں بعد میں سونے سے پہلے فریج کے اوپر ایک چٹ چپکا کر سو جاتیں، جس پر کھانے کی نوعیت اور جگہ کے بارے میں لکھا ہوتا تھا ۔ آہستہ آہستہ چٹ کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور “گندے کپڑے کہاں رکھنے ہیں اور صاف کپڑے کہاں پر رکھے ہیں” جیسے جملے بھی لکھے ملنے لگے، نیز یہ بھی کہ آج فلاں تاریخ ہے اور کل یہ کرنا ہے پرسوں فلاں جگہ جانا ہے وغیرہ وغیرہ ۔

یہ سلسلہ کافی عرصہ تک جاری رہا ۔ ۔ ۔ ایک دن میں رات دیر سے آیا، بہت تھکا ہوا تھا۔ حسب معمول فریج پر چٹ لگی ہوئی دیکھی لیکن بغیر پڑھے میں سیدھا بیڈ پر گیا اور سو گیا۔ صبح سویرے والد صاحب کے چیخ چیخ کر پکارنے سے آنکھ کھلی۔ ابو کی آنکھوں میں آنسو تھے انہوں یہ اندوہناک خبر سنائی کہ بیٹا تمہاری ماں اب اس دنیا میں نہیں رہیں ۔ میرے تو جیسے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی، غم کا ایک پہاڑ جیسے میرے اوپر آ گرا۔ ۔ ۔ ۔ ابھی تو میں نے امی کے لئے یہ کرنا تھا ، وہ کرنا تھا۔ ۔ ۔ ابھی تو میں سدھرنے والا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ میں تو امی سے کہنے والا تھا کہ اب میں رات دیر سے نہیں آیا کروں گا ۔ ۔ ۔

تدفین وغیرہ سے فارغ ہوکر رات کو جب میں نڈھال ہوکر بستر پر دراز ہوا تو اچانک مجھے امی کی رات والی چٹ یاد آ گئی، فوراً گیا اور اتار کر لے آیا، اس پر لکھا تھا:- “بیٹا آج میری طبعیت کچھ ٹھیک نہیں ہے، میں سونے جا رہی ہوں ، تم جب آؤ تو مجھے جگا لینا، مجھے ذرا ہسپتال تک لے جانا ۔ ۔ ۔

Share