Funny SMS Text Messages and Jokes Collection

funny sms jokes,funny sms, funny text messages, funny jokes

Kaam Kaisa Chal Raha Hai – Funny Urdu Joke

FacebookTwitterGoogle+Share

ایک آدمی پبلک ٹوائلٹ میں بیٹھا اپنی حاجت پوری کر رھا تھا -اسے اچانک ساتھ والے ٹوائلٹ سے آواز سنائی دی-
“کیا حال هیں”؟؟
آدمی گھبرا کر -“”ٹھیک هوں”
پھر آواز آئی-
“”کیا کر رھے هو”؟؟؟
آدمی-“ضروری کام سے بیٹھا هوں”
پھر آواز آئی
“کام کیسا چل رھا هے”؟؟
آدمی اور گھبرا کر بولا”رک رک کے چل رھا هے”-
پھر آواز آئی-
“یار میں تمہیں بعد میں کال کرتا هوں کوئی الو_کا_پٹھا ساتھ والے ٹوائلٹ سے میری ھر بات کا جواب دے رها هے


Muskuraiyae – An Intelligent Professor

پروفیسر صاحب انتہائی اہم موضوع پر لیکچر دے رہے تھے، جیسے ہی آپ نے تختہ سیاہ پر کچھ لکھنے کیلئے رخ پلٹا کسی طالب علم بے سیٹی ماری۔
پروفیسر صاحب نے مڑ کر پوچھا کس نے سیٹی ماری ہے تو کوئی بھی جواب دینے پر آمادہ نا ہوا۔ آپ نے قلم بند کر کے جیب میں رکھا اور رجسٹر اٹھا کر چلتے ہوئے کہا؛ میرا لیکچر اپنے اختتام کو پہنچا اور بس آج کیلئے اتنا ہی کافی ہے۔
پھر انہوں نے تھوڑا سا توقف کیا، رجسٹر واپس رکھتے ہوئے کہا، چلو میں آپ کو ایک قصہ سناتا ہوں تاکہ پیریڈ کا وقت بھی پورا ہوجائے۔
کہنے لگے: رات میں نے سونے کی بڑی کوشش کی مگر نیند کوسوں دور تھی۔ سوچا جا کر کار میں پٹرول ڈلوا آتا ہوں تاکہ اس وقت پیدا ہوئی کچھ یکسانیت ختم ہو، سونے کا موڈ بنے اور میں صبح سویرے پیٹرول ڈلوانے کی اس زحمت سے بھی بچ جاؤں۔
پھر میں نے پیٹرول ڈلوا کر اُسی علاقے میں ہی وقت گزاری کیلئے ادھر اُدھر ڈرائیو شروع کردی۔
کافی مٹرگشت کے بعد گھر واپسی کیلئے کار موڑی تو میری نظر سڑک کے کنارے کھڑی ایک لڑکی پر پڑی، نوجوان اور خوبصورت تو تھی مگر ساتھ میں بنی سنوری ہوئی بھی، لگ رہا تھا کسی پارٹی سے واپس آ رہی ہے۔
میں نے کار ساتھ جا کر روکی اور پوچھا، کیا میں آپ کو آپ کے گھر چھوڑ دوں؟
کہنے لگی: اگر آپ ایسا کر دیں تو بہت مہربانی ہوگی، مجھے رات کے اس پہر سواری نہیں مل پا رہی۔
لڑکی اگلی سیٹ پر میرے ساتھ ہی بیٹھ گئی، گفتگو انتہائی مہذب اور سلجھی ہوئی کرتی تھی، ہر موضوع پر مکمل عبور اور ملکہ حاصل تھا، گویا علم اور ثقافت کا شاندار امتزاج تھی۔
میں جب اس کے بتائے ہوئے پتے ہر اُس کے گھر پہنچا تو اُس نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اُس نے مجھ جیسا باشعور اور نفیس انسان نہیں دیکھا، اور اُس کے دل میں میرے لیئے پیار پیدا ہو گیا ہے۔
میں نے بھی اُسے صاف صاف بتاتے ہوئے کہا، سچ تو یہ ہے کہ آپ بھی ایک شاہکار خاتوں ہیں، مجھے بھی آپ سے انتہائی پیار ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی میں نے اُسے بتایا کہ میں یونیوسٹی میں پروفیسر ہوں، پی ایچ ڈی ڈاکٹراور معاشرے کا مفید فرد ہوں۔ لڑکی نے میرا ٹیلیفون نمبر مانگا جو میں نے اُسے بلا چوں و چرا دیدیا۔
میری یونیورسٹی کا سُن کر اُس نے خوش ہوتے ہوئے کہا؛ میری آپ سے ایک گزارش ہے۔
میں نے کہا؛ گزارش نہیں، حکم کرو۔
کہنے لگی؛ میرا ایک بھائی آپ کی یونیوسٹی میں پڑھتا ہے، آپ سے گزارش ہے کہ اُس کا خیال رکھا کیجیئے۔
میں نے کہا؛ یہ تو کوئی بڑی بات نہیں ہے، آپ اس کا نام بتا دیں۔
کہنے لگی؛ میں اُس کا نام نہیں بتاتی لیکن آپ کو ایک نشانی بتاتی ہوں، آپ اُسے فوراً ہی پہچان جائیں گے۔
میں نے کہا؛ کیا ہے وہ خاص نشانی، جس سے میں اُسے پہچان لوں گا۔
کہنے لگی؛ وہ سیٹیاں مارنا بہت پسند کرتا ہے۔
پروفیسر صاحب کا اتنا کہنا تھا کہ کلاس کے ہر طالب علم کی نظر غیر ارادی طور پر اُس لڑکے کی طرف اُٹھ گئی جس نے سیٹی ماری تھی۔
پروفیسر صاحب نے اُس لڑکے کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا، اُٹھ اوئے جانور، تو کیا سمجھتا ہے میں نے یہ پی ایچ ڈی کی ڈگری گھاس چرا کر لی ہے کیا؟


Eid Ka Din Kis Kay Liyae.. Kabhi Sochain

عید کو دو ہی دن رہ گئے تھے.. بوڑھے نے اپنے بیٹے کو فون کیا.. “بیٹا ! میں تمھیں ان خوشی کے دنوں میں تکلیف پہنچانا نہیں چاہتا مگر کیا کروں , کہے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں ہے.. میں اور تمھاری ماں علیحدہ ہورہے ہیں.. بہت ہوچکا.. اب اس سے ذیادہ جھنجھٹیں میں برداشت نہیں کرسکتا..”
“کیا _ ؟؟؟ آپ کیا بول رہے ہیں ابو..” بیٹا چیخ پڑا..
“ہم اب ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہ سکتے..” بوڑھے باپ نے واضح کردیا.. “ہم ایک دوسرے سے بیزار ہوچکے ہیں اور میں اس موضوع پر مزید کوئی گفتگو کرنے سے قاصر ہوں.. تم دوسرے شہر رہنے والی بہن کو بھی فون کرکے اس کی اطلاع دے دو..”
بیٹے نے گھبرا کر اپنی بہن کو فون کیا اور بتایا کہ ہمارے ماں باپ طلاق لے رہے ہیں..
بیٹی نے خبر سنی تو دیوانوں کی طرح چلا اٹھی.. “کیا کہہ رہے ہو بھیا.. ایسا نہیں ہوسکتا.. میں ابھی ابو کو فون کرتی ہوں.. دیکھتی ہوں ایسا کیسے کرسکتے ہیں وہ..”
لڑکی نے اپنے وطن رہنے والے باپ کو فون ملایا اور چیخنے چلانے لگی.. “آپ ایسا نہیں کریں گے.. یہ کوئی عمر ہے طلاق لینے کی.. میں آرہی ہوں.. جب تک میں نہ آجاؤں آپ اس سلسلے میں ایک بھی قدم نہیں اُٹھائیں گے.. میں بھائی کو فون کرکے ساتھ چلنے کو کہتی ہوں.. ہم دونوں کل تک آرہے ہیں کسی بھی صورت میں اور کل تک آپ کچھ نہیں کریں گے.. آپ سن رہے ہیں ناں میری بات..؟؟” اتنا کہہ کر اس نے فون بند کردیا..
بوڑھے نے فون رسیور پر رکھا اور بیوی سے مخاطب ہو کر بولا.. “مسئلہ حل ہوگیا ہے.. پورے تین سال بعد وہ دونوں آرہے ہیں اور عید ہمارے ساتھ ہی کریں گے..”
اللہ نہ کرے کہ کسی کی زندگی ميں ايسا وقت آۓ ليکن يہ کہانی ايک انتہائی حساس موضوع کی طرف اشارہ کرتی ہے..
اس سے پہلے کہ وقت آپ کے ہاتھ سے نکل جاۓ يا خدانخواستہ کوئی اور ايمرجنسی کال آ جاۓ اور آپ ہاتھ ملتے رہ جائيں ، اگر اپ نے بھی پچھلے کچھ سالوں سے اپنے والدين کے ساتھ عيد نہيں منائی ہے تو کوشش کيجيے کہ اس بار عيد اپنے گھر والوں , خاص طور پر اپنے والدين کے ساتھ منائيں..
ابھی عيد آنے ميں کچھ روز باقی ہيں.. خاص طور پر پرديس ميں بسنے والے بھائی بہنوں سے التماس ہے کہ اگر آپ کے حالات اجازت ديتے ہيں اور کوئی رکاوٹ بھی نہيں ہےتو اس بار اپنے والدين کی عيد کی خوشيوں کو دوبالا کرديں…!!!

Eid Ka Din Kis Kay Liyae.. Kabhi Sochain
4.75(95%) 4 votes

Namaz Rah-e-Nijaat

ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺐ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﯽ ﺍﺫﺍﻥ ﮨﻮﺋﯽ ﺁﺝ ﺟﺎﺏ ﺳﮯ ﺁﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ . ﻣﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ ﺧﺘﻢ ﮨﯽ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻠﺪﯼ ﺟﻠﺪﯼ ﻭﺿﻮ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮔﯿﻠﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﺎﺅ ﮞ ﻟﯿﮑﺮ ﺟﺎﻧﻤﺎﺯ ﭘﺮ ﻧﯿﺖ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﯼ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ … ﻣﯿﺮﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﭨﭙﮏ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺁﺳﺘﯿﻦ ﺳﮯ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﺘﯽ …
ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﯽ ﮐﯽ ﺩﻭﺍﺋﯿﺎﮞ ﻻﻧﺎ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﯽ ﺗﻬﯽ … ﺁﺝ ﺁﻓﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﮐﺎﻡ ﺗﮭﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻼ ..
ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮏ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺠﻬﮯ ﻟﮕﺎ , ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺭﮮ ﻟﻮﮒ ﺟﻤﻊ ﺗﮭﮯ ﺳﺐ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﮐﺘﺎﺏ ﺗﮭﯽ، . ،
ﻣﺠﮭﮯ ﮐﭽﮫ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺁ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺗﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺘﺎﺏ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﻤﺎ ﺩﯼ ﺟﺲ ﭘﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﮭﻮﻟﯽ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﭼﮭﮯ ﺑﺮﮮ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻟﮑﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻣﺮ ﮔﺌﯽ ﮨﻮﮞ ?
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﺐ ﻃﺮﻑ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﮔﮭﻤﺎﺋﯿﮟ ﺳﺐ ﺍﯾﮏ ﻻﺋﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺍ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ
ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﻣﺮ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﺘﺎﺏ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺍﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯽ …
ﺟﺐ ﺳﺐ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮨﻮ ﮔﺌﮟ ﺗﺐ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺁﯾﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ..
ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺩﮬﮍﮐﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺁﺝ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ ? ﺁﺝ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﮐﯿﺎﮨﻮﮔﺎ ?
ﺗﺒﻬﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﺋﯽ ﺟﮩﻨﻢ …
ﻣﺠﮭﮯﯾﻘﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﯾﮧ ﮨﻮﮔﺎ ﻣﯿﮟ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ..
ﺗﺒﮭﯽ ﺩﻭ ﺧﻄﺮﻧﺎﮎ ﺳﺎﺋﮯ ﺁﮮ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﮭﺴﯿﭩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﯿﺨﺘﯽ ﺭﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﭽﺎﺅ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﭽﺎﺅ ﺳﺐ ﺳﮩﻤﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺭﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ …
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼﻠّﺎ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﻏﻠﻂ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ، ﮐﺒﮭﯽ ﺟﮭﻮﭦ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻮﻻ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﭼﻐﻠﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ،ﺳﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﯾﺎ، ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺟﮩﻨﻢ ﻣﯿﮟ ﭘﻬﯿﻨﮏ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ?
ﮐﻮﺋﯽ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯽ ﺑﻮﻻ ﺻﺮﻑ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮭﯿﻨﭽﺘﮯ ﺭﮨﮯ . ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﯽ ﺁﮒ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯽ . ﺍﺳﮑﺎ ﻣﻨﮧ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﻭﺭ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ . ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺭﺳّﯽ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ..
ﺗﺒﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﯾﺎﺩ ﺁﺋﯽ … ﻣﯿﮟ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﭼﻼﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻤﺎﺯ , ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ ???
ﺟﮩﻨﻢ ﮐﺎ ﻣﻨﮧ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺗﮭﺎ . ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ , ﻣﯿﮟ ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﮔﺮﻣﯽ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ , ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺱ ﮔﺮﻣﯽ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮐﺮﻭﻧﮕﯽ ??
ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺭﻭ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ
ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﮮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﻨﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻬﺎ .
ﻣﯿﮟ ﭼﻼّﺋﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﺍ .
ﺍﯾﮏ ﺳﺎﮮ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﮩﻨﻢ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﮑﺎّ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﯽ ﺗﭙﺘﯽ ﺁﮒ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮕﺎ ﯾﮧ ﮨﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﺣﺸﺮ ﮨﮯ .
ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ .
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺩﮨﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﺰﺭﮒ ﮐﮭﮍﮮ ﺗﮭﮯ . ﺳﻔﯿﺪ ﮈﺍﮌﻫﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺭﺍﻧﯽ ﭼﮩﺮﮦ ﻟﺌﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ .
ﻧﯿﭽﮯ ﺩﻭﺯﺥ ﮐﯽ ﺁﮒ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﮭﻠﺴﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﭽﻞ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ .
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺑﺰﺭﮒ ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯽ ﺍﺳﮑﯽ ﺗﭙﺶ ﭨﮭﻨﮉﮎ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﮔﺊ، .
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺁﭖ ﮐﻮﻥ ﮨﯿﮟ ?
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﮭﯿﭻ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻧﻤﺎﺯ …. ﻣﺠﮭﮯ ﻏﺼﮧ ﺁﮔﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ , ﺁﭖ ﺍﺗﻨﯽ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺁﮮ ﮨﯿﮟ ?. ﺁﭖ ﺍﮔﺮ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﺁﺗﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﻨﻤﯽ ﺑﻦ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﺗﯽ ..
ﺑﺰﺭﮒ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ .
ﺗﺒﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﮭﻞ ﮔﺌﯽ .
ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﮨﻼ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ..
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻣﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﮐﮭﮍﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻝ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﻧﻤﺎﺯ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯿﻮﮞ ﭼﻼّ ﺭﮨﯽ ﮨﻮ ???
ﻣﯿﺮﯼ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﭨﻬﮑﺎﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ …
ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮦ ﺗﮭﯽ .. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻣﯽ ﮐﻮ ﮔﻠﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﺁﺝ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻭﻧﮕﯽ … ،ﺍﻧﺸﺎﺀﺍﻟﻠ

Namaz Rah-e-Nijaat
4.9(98%) 10 votes

Shareef Larkay

Meri Class Kay Shareef Larkay

ان میں شرافت کوٹ کوٹ کر کیا مار مار کر
ﮐﺮبھری ہوتی ہے عام بندہ اتنی سہیلیاں نہیں بناتا جتنی یہ بہنیں بناتے ہیں ۔ میری کلاس میں مے بھی ایک ایسا لڑکا پھڑتا تھا  جو بہنیں بنانے میں بڑا ماہر تھا۔ کبھی کسی لڑکی کو نام لے کر نہیں بلاتا تھا۔ بلکہ ہمیشہ بہن بہن کہتا رہتا تھا۔

پچھلے دنوں لگ بھک دس سال بعد اس سے ملاقات ہوئی ـ

میں نے پوچھا

ہاں بھئی سناوُ ۔۔۔۔۔ شادی ہو گئی ۔۔۔۔؟

شرما کر بولا

بس جی ۔۔۔ ایک بہن سے بات چل رہی ہے ۔۔۔

Shareef Larkay
4.5(90%) 6 votes

Page 1 of 118123...10...Last »»»
Funny SMS Text Messages and Jokes Collection © 2015