Funny SMS Text Messages and Jokes Collection

funny sms jokes,funny sms, funny text messages, funny jokes



جعلی نوٹ چھاپنے کا انجام – اردو لطیفے اردو میں

Share

ایک ﺻﺎﺣﺐ ﺟﻮ ﺟﻌﻠﯽ ﻧﻮﭦ ﭼﮭﺎﭘﻨﮯ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ
ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ،ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯسو 
ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ایک سو پچاس  ﺭﻭﭘﮯ ﮐﺎ ﻧﻮﭦ ﭼﮭﺎﭖ
ﺩﯾﺎ۔
ﺍﺏ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮧ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﮧ
ﭼﻠﮯ ﮔﺎ ﻧﮩﯿﮟ، ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﺴﻤﺎﻧﺪﮦ
ﺩﯾﮩﺎﺕ ﮐﺎ ﺭﺥ ﮐﯿﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﺩﮐﺎﻥ
ﺩﯾﮑﮭﯽ، ﻭﮨﺎﮞ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﮬﯿﺎ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ
ﺗﮭﯽ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ دس ﺭﻭﭘﮯ ﮐﺎ
ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺮ ایک سو پچاس ﮐﺎ ﻧﻮﭦ ﺩﯾﺎ ۔
ﺑﮍﮬﯿﺎ ﻧﮯ ﻧﻮﭦ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ
ﺳﺘﺮ ﺳﺘﺮ ﮐﮯ ﺩﻭ ﻧﻮﭦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ میں پکڑا دیئے..
ِ

جعلی نوٹ چھاپنے کا انجام – اردو لطیفے اردو میں

Share

Little Old Lady and the Doctor

Share

Funny SMS Jokes Funny Lady Funny Doctor

This little old lady goes to the doctor and says, “Doctor I have this problem with passing gas, but it really doesn’t bother me too much. It never smells and it’s always silent. As a matter of fact I’ve passed gas at least 20 times since I’ve been here in your office. You didn’t know I was passing gas because it doesn’t smell and it’s silent.”
The doctor says “I see. Take these pills and come back to see me next week.”
The next week the lady goes back. “Doctor,” she says, “I don’t know what you gave me, but now my passing gas… although still silent, it stinks terribly.” “Good”, the doctor said, “now that we’ve cleared up your sinuses, we’ll start to work on your hearing.”

★*•♫ Pass it on!! Give someone else a reason to smile.♫.•* ★

Little Old Lady and the Doctor

Share

Sirf Aurat ho

Share

میرے محلے میں ماسٹر عتیق صاحب رہتے ہیں، 44 سال کی عمر میں اُن کی شادی ہوئی
ایک دن فرماتے ہیں کہ جب میں 23 سال کا تھا تو ڈائری میں 40 ایسی خوبیاں نوٹ کی جو میری مُتوقع بیوی میں ہونی چاہیے
وقت گزرتا گیا لیکن ایسی بیوی نہ مِل سکی جس میں 40 خوبیاں ہوں، اور ماسٹر عتیق ہر سال ایک دو خوبیاں کاٹتے رہے کہ چلو یہ خوبیاں نہ بھی ہوں تو لڑکی قبول ہے
بالاآخر 40 سال کے ہوگئے اور ڈائری میں صرف ایک خوبی لکھی رہ گئی
“عورت ہو”

Sirf Aurat ho
4.7(93.33%) 3 votes

Share

Kaam Kaisa Chal Raha Hai – Funny Urdu Joke

Share

ایک آدمی پبلک ٹوائلٹ میں بیٹھا اپنی حاجت پوری کر رھا تھا -اسے اچانک ساتھ والے ٹوائلٹ سے آواز سنائی دی-
“کیا حال هیں”؟؟
آدمی گھبرا کر -“”ٹھیک هوں”
پھر آواز آئی-
“”کیا کر رھے هو”؟؟؟
آدمی-“ضروری کام سے بیٹھا هوں”
پھر آواز آئی
“کام کیسا چل رھا هے”؟؟
آدمی اور گھبرا کر بولا”رک رک کے چل رھا هے”-
پھر آواز آئی-
“یار میں تمہیں بعد میں کال کرتا هوں کوئی الو_کا_پٹھا ساتھ والے ٹوائلٹ سے میری ھر بات کا جواب دے رها هے

Kaam Kaisa Chal Raha Hai – Funny Urdu Joke
2.9(58%) 10 votes

Share

Muskuraiyae – An Intelligent Professor

Share

پروفیسر صاحب انتہائی اہم موضوع پر لیکچر دے رہے تھے، جیسے ہی آپ نے تختہ سیاہ پر کچھ لکھنے کیلئے رخ پلٹا کسی طالب علم بے سیٹی ماری۔
پروفیسر صاحب نے مڑ کر پوچھا کس نے سیٹی ماری ہے تو کوئی بھی جواب دینے پر آمادہ نا ہوا۔ آپ نے قلم بند کر کے جیب میں رکھا اور رجسٹر اٹھا کر چلتے ہوئے کہا؛ میرا لیکچر اپنے اختتام کو پہنچا اور بس آج کیلئے اتنا ہی کافی ہے۔
پھر انہوں نے تھوڑا سا توقف کیا، رجسٹر واپس رکھتے ہوئے کہا، چلو میں آپ کو ایک قصہ سناتا ہوں تاکہ پیریڈ کا وقت بھی پورا ہوجائے۔
کہنے لگے: رات میں نے سونے کی بڑی کوشش کی مگر نیند کوسوں دور تھی۔ سوچا جا کر کار میں پٹرول ڈلوا آتا ہوں تاکہ اس وقت پیدا ہوئی کچھ یکسانیت ختم ہو، سونے کا موڈ بنے اور میں صبح سویرے پیٹرول ڈلوانے کی اس زحمت سے بھی بچ جاؤں۔
پھر میں نے پیٹرول ڈلوا کر اُسی علاقے میں ہی وقت گزاری کیلئے ادھر اُدھر ڈرائیو شروع کردی۔
کافی مٹرگشت کے بعد گھر واپسی کیلئے کار موڑی تو میری نظر سڑک کے کنارے کھڑی ایک لڑکی پر پڑی، نوجوان اور خوبصورت تو تھی مگر ساتھ میں بنی سنوری ہوئی بھی، لگ رہا تھا کسی پارٹی سے واپس آ رہی ہے۔
میں نے کار ساتھ جا کر روکی اور پوچھا، کیا میں آپ کو آپ کے گھر چھوڑ دوں؟
کہنے لگی: اگر آپ ایسا کر دیں تو بہت مہربانی ہوگی، مجھے رات کے اس پہر سواری نہیں مل پا رہی۔
لڑکی اگلی سیٹ پر میرے ساتھ ہی بیٹھ گئی، گفتگو انتہائی مہذب اور سلجھی ہوئی کرتی تھی، ہر موضوع پر مکمل عبور اور ملکہ حاصل تھا، گویا علم اور ثقافت کا شاندار امتزاج تھی۔
میں جب اس کے بتائے ہوئے پتے ہر اُس کے گھر پہنچا تو اُس نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اُس نے مجھ جیسا باشعور اور نفیس انسان نہیں دیکھا، اور اُس کے دل میں میرے لیئے پیار پیدا ہو گیا ہے۔
میں نے بھی اُسے صاف صاف بتاتے ہوئے کہا، سچ تو یہ ہے کہ آپ بھی ایک شاہکار خاتوں ہیں، مجھے بھی آپ سے انتہائی پیار ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی میں نے اُسے بتایا کہ میں یونیوسٹی میں پروفیسر ہوں، پی ایچ ڈی ڈاکٹراور معاشرے کا مفید فرد ہوں۔ لڑکی نے میرا ٹیلیفون نمبر مانگا جو میں نے اُسے بلا چوں و چرا دیدیا۔
میری یونیورسٹی کا سُن کر اُس نے خوش ہوتے ہوئے کہا؛ میری آپ سے ایک گزارش ہے۔
میں نے کہا؛ گزارش نہیں، حکم کرو۔
کہنے لگی؛ میرا ایک بھائی آپ کی یونیوسٹی میں پڑھتا ہے، آپ سے گزارش ہے کہ اُس کا خیال رکھا کیجیئے۔
میں نے کہا؛ یہ تو کوئی بڑی بات نہیں ہے، آپ اس کا نام بتا دیں۔
کہنے لگی؛ میں اُس کا نام نہیں بتاتی لیکن آپ کو ایک نشانی بتاتی ہوں، آپ اُسے فوراً ہی پہچان جائیں گے۔
میں نے کہا؛ کیا ہے وہ خاص نشانی، جس سے میں اُسے پہچان لوں گا۔
کہنے لگی؛ وہ سیٹیاں مارنا بہت پسند کرتا ہے۔
پروفیسر صاحب کا اتنا کہنا تھا کہ کلاس کے ہر طالب علم کی نظر غیر ارادی طور پر اُس لڑکے کی طرف اُٹھ گئی جس نے سیٹی ماری تھی۔
پروفیسر صاحب نے اُس لڑکے کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا، اُٹھ اوئے جانور، تو کیا سمجھتا ہے میں نے یہ پی ایچ ڈی کی ڈگری گھاس چرا کر لی ہے کیا؟

Muskuraiyae – An Intelligent Professor
4.3(85%) 8 votes

Share

Eid Ka Din Kis Kay Liyae.. Kabhi Sochain

Share

عید کو دو ہی دن رہ گئے تھے.. بوڑھے نے اپنے بیٹے کو فون کیا.. “بیٹا ! میں تمھیں ان خوشی کے دنوں میں تکلیف پہنچانا نہیں چاہتا مگر کیا کروں , کہے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں ہے.. میں اور تمھاری ماں علیحدہ ہورہے ہیں.. بہت ہوچکا.. اب اس سے ذیادہ جھنجھٹیں میں برداشت نہیں کرسکتا..”
“کیا _ ؟؟؟ آپ کیا بول رہے ہیں ابو..” بیٹا چیخ پڑا..
“ہم اب ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہ سکتے..” بوڑھے باپ نے واضح کردیا.. “ہم ایک دوسرے سے بیزار ہوچکے ہیں اور میں اس موضوع پر مزید کوئی گفتگو کرنے سے قاصر ہوں.. تم دوسرے شہر رہنے والی بہن کو بھی فون کرکے اس کی اطلاع دے دو..”
بیٹے نے گھبرا کر اپنی بہن کو فون کیا اور بتایا کہ ہمارے ماں باپ طلاق لے رہے ہیں..
بیٹی نے خبر سنی تو دیوانوں کی طرح چلا اٹھی.. “کیا کہہ رہے ہو بھیا.. ایسا نہیں ہوسکتا.. میں ابھی ابو کو فون کرتی ہوں.. دیکھتی ہوں ایسا کیسے کرسکتے ہیں وہ..”
لڑکی نے اپنے وطن رہنے والے باپ کو فون ملایا اور چیخنے چلانے لگی.. “آپ ایسا نہیں کریں گے.. یہ کوئی عمر ہے طلاق لینے کی.. میں آرہی ہوں.. جب تک میں نہ آجاؤں آپ اس سلسلے میں ایک بھی قدم نہیں اُٹھائیں گے.. میں بھائی کو فون کرکے ساتھ چلنے کو کہتی ہوں.. ہم دونوں کل تک آرہے ہیں کسی بھی صورت میں اور کل تک آپ کچھ نہیں کریں گے.. آپ سن رہے ہیں ناں میری بات..؟؟” اتنا کہہ کر اس نے فون بند کردیا..
بوڑھے نے فون رسیور پر رکھا اور بیوی سے مخاطب ہو کر بولا.. “مسئلہ حل ہوگیا ہے.. پورے تین سال بعد وہ دونوں آرہے ہیں اور عید ہمارے ساتھ ہی کریں گے..”
اللہ نہ کرے کہ کسی کی زندگی ميں ايسا وقت آۓ ليکن يہ کہانی ايک انتہائی حساس موضوع کی طرف اشارہ کرتی ہے..
اس سے پہلے کہ وقت آپ کے ہاتھ سے نکل جاۓ يا خدانخواستہ کوئی اور ايمرجنسی کال آ جاۓ اور آپ ہاتھ ملتے رہ جائيں ، اگر اپ نے بھی پچھلے کچھ سالوں سے اپنے والدين کے ساتھ عيد نہيں منائی ہے تو کوشش کيجيے کہ اس بار عيد اپنے گھر والوں , خاص طور پر اپنے والدين کے ساتھ منائيں..
ابھی عيد آنے ميں کچھ روز باقی ہيں.. خاص طور پر پرديس ميں بسنے والے بھائی بہنوں سے التماس ہے کہ اگر آپ کے حالات اجازت ديتے ہيں اور کوئی رکاوٹ بھی نہيں ہےتو اس بار اپنے والدين کی عيد کی خوشيوں کو دوبالا کرديں…!!!

Eid Ka Din Kis Kay Liyae.. Kabhi Sochain
4.2(83.33%) 6 votes

Share
Funny SMS Text Messages and Jokes Collection © 2018